ن لیگ اورپیپلز پارٹی سائیڈ لائن؟چاروفاقی وزراءڈینجرزون میں اورمتبادل تیار،سنسنی خیز اندرونی کہانی فاش!

​اسلام آباد(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)وفاقی دارالحکومت کے مقتدر حلقوں میں بڑے پیمانے پر بساط پلٹنے کی لرزہ خیز تیاری مکمل کر لی گئی ہے، جہاں بند کمروں میں کیے گئے خفیہ فیصلوں پر باقاعدہ عملدرآمد کا آغاز ہو چکا ہے۔ انتہائی معتبر ذرائع کے مطابق، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو بتدریج سائیڈ لائن کرنے کا پورا منصوبہ تیار ہے اور مقتدر حلقوں کی جانب سے پولیٹیکل فورسز کو یہ کڑا پیغام دے دیا گیا ہے کہ ان کا متبادل ہر وقت میز پر موجود ہے۔ اس سلسلے میں پہلا بڑا دھماکہ وفاقی کابینہ میں ہونے جا رہا ہے جہاں 4 بڑے اور اہم وفاقی وزراء اس وقت ‘ڈینجر زون’ میں آ چکے ہیں۔ ان چاروں وزراء کی یا تو کبینہ سے مستقل چھٹی کروائی جا رہی ہے یا پھر ان کے محکمے یکسر تبدیل کر دیے جائیں گے، جس کے بعد متاثرہ وزراء نے اپنی کرسیاں بچانے کے لیے شدید ہاتھ پاؤں مارنے شروع کر دیے ہیں۔

​دوسری جانب، اسکرپٹ کے مطابق پہلا بڑا اپ سیٹ گلگت بلتستان کی سیاست میں لایا گیا ہے، جہاں بلاول بھٹو زرداری کے تمام تر تحفظات اور ن لیگ کے دعوؤں کو ہوا میں اڑاتے ہوئے 4 آزاد ارکان کو راتوں رات استحکامِ پاکستان پارٹی (آئی پی پی) میں شامل کروا دیا گیا ہے۔ آئی پی پی، جس نے الیکشن میں ایک سیٹ بھی نہیں جیتی تھی، وہ اب مقتدر حلقوں کے آشیرباد سے گلگت بلتستان میں تیسری بڑی قوت بن کر ابھری ہے، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اب بلاول بھٹو ‘آئی پی پی’ کی بیساکھیوں اور ان کی سخت شرائط مانے بغیر وہاں جیالا وزیرِ اعلیٰ نہیں لا سکتے۔ فیصل واڈا کی پیشگوئیوں کے عین مطابق، آنے والے دنوں میں بڑے سیاسی سکینڈلز اور ویڈیوز بھی منظرِ عام پر لائے جانے کا قوی امکان ہے تاکہ مزاحمت کرنے والی سیاسی قوتوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جا سکے۔ اگرچہ وزیرِ اعظم شہباز شریف اسٹیبلشمنٹ کی آنکھ کا تارا ہونے کے باعث فی الحال سیف زون میں ہیں، مگر آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کے لیے آگے کا سفر شدید ترین بھنور اور مصائب سے بھرا دکھائی دے رہا ہے۔

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button