26ویں اور27ویں ترمیم میں نقائص ہیں،28ویں ترمیم بھی لانا پڑے گی،لیاقت بلوچ

وزیرآباد(نامہ نگار)جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ 26ویں اور27ویں آئینی ترمیم میں تنازعات و نقائص ہیں,اب حکمرانوں کو28ویں ترمیم بھی لانا پڑے گی۔وہ سابق ایم این اے جسٹس(ر) افتخار احمد چیمہ کی فاتحہ خوانی کے بعد صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے۔

اس موقع پر سابق ممبر قومی اسمبلی فرید احمد پراچہ،ضلعی امیر جماعت اسلامی ناصر محمود کلیر،صابر حسین بٹ،افتخار احمد بٹ،مرزا غلام مصطفی،صوفی محمد اشرف نثار،نعیم ناگرا،میاں شہباز احمد،سید ضمیر کاظمی و دیگر بھی موجود تھے.

نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا کہ پاکستان ایک فیڈریشن ہے اور چار صوبے اس کی اہم ترین اکائیاں ہیں لیکن اگر کسی ایک کا اعتماد دستور پر نہ رہے تو خرابی پیدا ہو گی عدلیہ بھی تباہ ہو رہی ہے،پارلیمنٹ کی حیثیت بھی عملا ختم ہو رہی ہے اور عوام سے بنیادی جمہوری حقوق بھی چھینے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا حکومتی ٹولہ مفاد پرستوں کا ٹولہ ہے جو اپنے مفادات کی خاطر پاکستان کے ہر مفاد کو قربان کر رہے ہیں جس طرح وزیر اعظم خود استشنی نہیں لے رہے اسی طرح فیلڈ مارشل اور صدر پاکستان کو بھی استشنی نہیں لینا چاہیے کوئی بھی پاکستانی ہو اگر قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اسکو قانون کے دائرے میں لانا ملک کی ضرورت ہے انہوں نے مزید کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ترامیم مسائل میں اضافہ کر رہی ہیں اور معیشت کو بھی نقصان دے رہی ہیں اس کے بجائے عوامی مسائل کے حل کے کے اقدامات کیے جائیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مساجد کے علماء کے وظیفہ یا تنخواہ کے معاملہ پر ہمارا موقف یہ ہے کہ اس کا فیصلہ علماء نے کرنا ہے یا مساجد کی کمیٹیوں نے۔

انہوں نے تحریک لبیک پر ہابندی کے حوالہ سے گفتگو کرتے ہوے کہا کہ کسی بھی سیاسی یا دینی جماعت کو آئین کے مطابق کام کرنے کا مکمل حق حاصل ہے لیکن سیاست و جمہوریت کی اصل طاقت تہذیب اور شائستگی ہے آئین و جمہوری عمل ہے جو بھی جماعت آئین و قانون کو توڑتی ہے وہ بالآخر سیاست و جمہوریت کا ہی نقصان ہوتا ہے اور پھر اسٹیبلشمنٹ و بالادست قوتوں کی مدد ہوتی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button