اسموگ کے خلاف پنجاب حکومت کا بڑا ایکشن، دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے ڈرائیونگ لائسنس اور روٹ پرمٹ معطل کرنے کا فیصلہ

لاہور (جانوڈاٹ پی کے) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور سینئر وزیر مریم اورنگزیب کی ہدایت پر اسموگ کے تدارک کے لیے جاری کریک ڈاؤن مزید سخت کر دیا گیا ہے، جبکہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف سخت انتظامی اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے اعلان کیا ہے کہ دھواں چھوڑنے والی کمرشل گاڑیوں کے ڈرائیورز کے ڈرائیونگ لائسنس معطل کیے جائیں گے، جبکہ ان گاڑیوں کے روٹ پرمٹ بھی معطل کرنے کی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ انسانی صحت اور عوامی تحفظ کے پیشِ نظر سخت فیصلے ناگزیر ہیں۔

سی ٹی او کے مطابق بغیر ترپال ریت، مٹی اور دیگر تعمیراتی سامان لے جانے والی ٹرالیاں اور ڈمپرز کے شہر لاہور میں داخلے پر پابندی برقرار ہے، جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج اور قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے دوران دھواں چھوڑنے والی 1 لاکھ 14 ہزار 378 گاڑیوں کے چالان کیے گئے، جبکہ اسموگ تدارک مہم کے دوران 1 ہزار 401 مقدمات درج کیے گئے۔

اسی طرح بغیر ترپال ریت، مٹی اور دیگر آلودگی پھیلانے والے سامان کی نقل و حمل کرنے والی 53 ہزار 599 گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی گئی، جبکہ بغیر فٹنس سرٹیفکیٹ اور خستہ حال 1 لاکھ 88 ہزار 374 گاڑیوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔

سی ٹی او لاہور نے بتایا کہ مٹی، ریت اور دیگر مائننگ سائٹس پر خصوصی کریک ڈاؤن جاری ہے اور بغیر ترپال، پانی کے چھڑکاؤ یا دیگر حفاظتی انتظامات کے بغیر ٹریکٹر ٹرالیاں چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ شہر کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر ڈی ایس پیز کی نگرانی میں خصوصی چیکنگ جاری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) سسٹم کی مدد سے بھی دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی نشاندہی اور چالان کیے جا رہے ہیں، جبکہ مختلف سرکاری و نیم سرکاری اداروں کو اسموکی گاڑیوں کی مرمت اور درستگی کے لیے مراسلے بھی ارسال کیے گئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل جاری رہے گا۔

مزید خبریں

Back to top button