لاہور ہائیکورٹ کا ایم تھری موٹروے اور ملتان کی شاہراہوں پر شجرکاری منصوبے جاری رکھنے کا حکم

لاہور (جانوڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ نے ماحولیاتی تحفظ اور شجرکاری کے فروغ سے متعلق درخواست پر ایم تھری موٹروے اور ملتان شہر کی اہم شاہراہوں پر شجرکاری کے منظور شدہ اور مجوزہ منصوبوں پر عمل درآمد جاری رکھنے کی ہدایت کردی۔ عدالت نے زیرِ التوا منظوریوں اور خریداری کے مراحل بھی بروقت مکمل کرنے کا حکم دیا۔

جسٹس جواد حسن نے محمد طاہر جمال کی جانب سے دائر درخواست اور اس سے منسلک درخواست کی سماعت کے دوران متعلقہ سرکاری اداروں کی عمل درآمد رپورٹس کا جائزہ لیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ شجرکاری کی کامیابی کا اندازہ صرف لگائے گئے پودوں کی تعداد سے نہیں بلکہ ان کی بقا، صحت مند نشوونما اور مناسب دیکھ بھال سے لگایا جانا چاہیے۔

سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ ایم تھری موٹروے اور ملتان کی مختلف شاہراہوں پر شجرکاری کے اقدامات جاری ہیں، جبکہ ماحولیاتی خطرات کم کرنے اور سرسبز رقبے میں اضافے کے لیے مشاورتی کمیٹی کے اجلاس بھی منعقد کیے گئے ہیں۔

عدالت کو بتایا گیا کہ اکتوبر 2026 کے دوران ایم تھری موٹروے کے سروس اور ریسٹ ایریاز میں 5 ہزار 280 پودے لگائے گئے ہیں۔ موٹروے کے 36 کلومیٹر طویل حصے پر پھل دار درخت لگانے کے لیے خریداری کا عمل جاری ہے، جبکہ دیگر حصوں میں شجرکاری اور موجودہ درختوں کی دیکھ بھال کے لیے تخمینوں کی منظوری زیرِ عمل ہے۔

نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے حکام کے مطابق مسافروں کی سہولت کے لیے سروس ایریاز کی نشاندہی کرنے والے اضافی سائن بورڈز بھی تقریباً ہر 10 کلومیٹر کے فاصلے پر نصب کیے گئے ہیں۔

سرکاری حکام نے عدالت کو آگاہ کیا کہ مالی سال 2026-27 کے دوران ضلع ملتان کی اہم شاہراہوں پر مجموعی طور پر 28 ہزار 215 پودے لگانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

منصوبے کے تحت مختلف شاہراہوں پر پودوں کی مجوزہ تعداد درج ذیل ہے،

ملتان وہاڑی روڈ: 19 ہزار 140 پودے

خانیوال روڈ: 4 ہزار 125 پودے

ہیڈ محمد والا روڈ: 990 پودے

شیر شاہ ٹول پلازہ، مظفرگڑھ روڈ: ایک ہزار 980 پودے

شیر شاہ روڈ انٹرسیکشن: ایک ہزار 980 پودے

یہ شجرکاری مجموعی طور پر 85.5 کلومیٹر کے مختلف حصوں پر کی جائے گی۔ حکام کے مطابق ملتان وہاڑی روڈ کے منصوبے کی منظوری دی جا چکی ہے، جبکہ دیگر تین منصوبے منظوری کے مراحل میں ہیں۔ منصوبوں پر عمل درآمد کے بعد پودوں کی چار سال تک دیکھ بھال اور نگہداشت بھی کی جائے گی۔

محکمہ جنگلات نے شجرکاری کے مقامات کی جغرافیائی نشاندہی، تصاویر، پودوں کی اقسام اور ان کی بقا کی شرح کا ریکارڈ محفوظ رکھنے کا طریقہ کار بھی اختیار کیا ہے تاکہ منصوبوں کی پیش رفت اور نتائج کی مؤثر نگرانی کی جاسکے۔

جسٹس جواد حسن نے کمشنر ملتان ڈویژن، نیشنل ہائی وے اتھارٹی، محکمہ جنگلات اور محکمہ ہائر ایجوکیشن سمیت متعلقہ اداروں کے اقدامات کو سراہا۔ عدالت نے طلبہ میں ماحولیاتی شعور اجاگر کرنے کے لیے ’’ایک طالب علم، ایک پودا‘‘ منصوبے کو بھی مثبت پیش رفت قرار دیا۔

عدالت نے واضح کیا کہ شجرکاری کو محض سڑکوں اور عوامی مقامات کی خوبصورتی تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ منصوبوں کی تیاری میں مقامی آب و ہوا، زمین کی نوعیت، پانی کی دستیابی، حیاتیاتی تنوع اور شہد کی مکھیوں سمیت جنگلی پولینیٹرز کے تحفظ کو بھی مدنظر رکھا جائے۔

جسٹس جواد حسن نے مناسب مقامات پر دیرپا، گھنے اور سایہ فراہم کرنے والے درخت لگانے کی ہدایت کرتے ہوئے نیم، شیشم، پیپل اور مقامی ماحول سے مطابقت رکھنے والی کیکر کی اقسام پر غور کرنے کا کہا۔ عدالت نے واضح کیا کہ درختوں کی حتمی اقسام کا انتخاب متعلقہ تکنیکی ماہرین مقامی حالات اور بنیادی ڈھانچے سے مطابقت کا جائزہ لینے کے بعد کریں۔

عدالت نے مزید ہدایت کی کہ پودوں کو پانی کی فراہمی، ان کی حفاظت، خشک یا خراب پودوں کی جگہ نئے پودے لگانے اور باقاعدہ نگرانی کے انتظامات یقینی بنائے جائیں تاکہ شجرکاری کے منصوبوں سے دیرپا ماحولیاتی فوائد حاصل ہوسکیں۔

عدالت نے متعلقہ حکام کو حکم دیا کہ منظور شدہ اور مجوزہ منصوبوں پر قانون کے مطابق عمل درآمد جاری رکھا جائے اور زیرِ التوا منظوریوں و خریداری کے مراحل بروقت مکمل کیے جائیں۔ عدالت کے مطابق شجرکاری کی اصل کامیابی پودوں کی بقا، مناسب نگہداشت اور ماحول پر ان کے دیرپا مثبت اثرات میں ہے۔

مزید خبریں

Back to top button