نجی میڈیکل کالج کو پراپرٹی ٹیکس سے استثنیٰ نہ مل سکا، لاہور ہائیکورٹ کا 10 لاکھ جرمانہ

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ نے نجی میڈیکل کالج اور ہسپتال کو پراپرٹی ٹیکس سے استثنیٰ دینے کی دونوں درخواستیں مسترد کرتے ہوئے ٹیکس ادائیگی میں تاخیری حربے استعمال کرنے پر 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کردیا۔
جسٹس حسن نواز مخدوم اور جسٹس خالد اسحاق پر مشتمل دو رکنی بینچ نے 15 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا، جسے جسٹس خالد اسحاق نے تحریر کیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ محض اس بنیاد پر نجی میڈیکل کالج اور ہسپتال کو پراپرٹی ٹیکس سے استثنیٰ نہیں دیا جاسکتا کہ وہ متعلقہ جائیداد کے مالک نہیں بلکہ لیز ہولڈر ہیں۔ فیصلے کے مطابق پنجاب فنانس ایکٹ 2024 میں ترمیم کے بعد زیر قبضہ لیز ہولڈر کو بھی پراپرٹی ٹیکس کے لیے مالک تصور کیا جائے گا۔
عدالت کے مطابق پنجاب اربن امووایبل پراپرٹی ٹیکس ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے ’لیز اِن پوزیشن‘ کو مالک کی تعریف میں شامل کیا گیا ہے، لہٰذا محض لیز ہولڈر ہونے کی بنیاد پر ٹیکس سے استثنیٰ کا دعویٰ قابل قبول نہیں۔
فیصلے میں بتایا گیا کہ نجی میڈیکل کالج نے 14 ستمبر 2017 کے لیز معاہدے کے تحت متعلقہ جائیداد حاصل کی تھی۔ لیز ابتدائی طور پر 33 سال کے لیے تھی جبکہ معاہدے میں مزید 33 سال اور اس کے بعد بھی تجدید کے اختیارات موجود تھے۔ عدالت نے ان شرائط کو مستقل نوعیت کی لیز قرار دیا۔
جسٹس خالد اسحاق نے فیصلے میں قرار دیا کہ غیر رجسٹرڈ لیز معاہدے کی بنیاد پر ٹیکس کی قانونی ذمہ داری سے نہیں بچا جاسکتا اور کوئی شخص اپنے ہی قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کا فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا کہ پراپرٹی ٹیکس کی بنیادی ذمہ داری جائیداد کے مالک پر عائد ہوتی ہے، تاہم مالک کی جانب سے ٹیکس ادا نہ کیے جانے کی صورت میں جائیداد کو کرایے یا لیز پر استعمال کرنے والے شخص کو بھی ٹیکس اتھارٹی ادائیگی کا نوٹس جاری کرسکتی ہے۔
فیصلے کے مطابق نجی میڈیکل کالج اور ہسپتال دیہی علاقے میں تجارتی سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں، تاہم درخواست گزار دیہی زمین کے استعمال میں تبدیلی کے لیے درکار قانونی اجازت اور فیس کی ادائیگی کا ثبوت پیش نہیں کرسکا۔ بعد ازاں درخواست گزار نے دیہی علاقے میں پراپرٹی ٹیکس عائد نہ کرنے سے متعلق اپنی استدعا واپس لے لی۔
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ عبوری ریلیف کی بنیاد پر پراپرٹی ٹیکس کی ادائیگی سے مستقل استثنیٰ حاصل نہیں کیا جاسکتا اور نجی میڈیکل کالج سابقہ واجب الادا پراپرٹی ٹیکس کی ادائیگی کا بھی ذمہ دار ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار نے قانونی ٹیکس اور واجبات کی ادائیگی سے مسلسل گریز کیا اور ادائیگی میں تاخیری حربے استعمال کیے، جس پر 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ عدالت کے مطابق جرمانے کی رقم پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کے تحت بقایاجات اراضی محصول کے طور پر وصول کی جائے گی۔
عدالت نے واضح کیا کہ آئینی دائرہ اختیار کو قانون کی خلاف ورزی یا ٹیکس کی ادائیگی سے بچنے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت نے دونوں درخواستیں مسترد کرتے ہوئے متعلقہ ٹیکس واجبات کی ادائیگی کا حکم برقرار رکھا۔



