تنخواہ کو ڈائریکٹر فیس قرار دے کر اضافی ٹیکس نہیں لگایا جاسکتا، لاہور ہائیکورٹ

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ نے ٹیکس دہندگان کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ملازم ڈائریکٹر کو دی جانے والی تنخواہ کو محض ڈائریکٹر فیس قرار دے کر اضافی ٹیکس عائد نہیں کیا جاسکتا۔
عدالت نے قرار دیا کہ ملازم ڈائریکٹر کو تنخواہ کی مد میں ادا کی جانے والی رقم پر 20 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس لاگو نہیں ہوگا۔ رقم پر صرف ’’ڈائریکٹر فیس‘‘ لکھ دینے سے اس کی قانونی و مالی حیثیت تبدیل نہیں ہوتی، ٹیکس کے تعین کے وقت رقم کے نام کے بجائے اس کی اصل نوعیت دیکھی جائے گی۔
لاہور ہائیکورٹ کے مطابق اگر ڈائریکٹر کو رقم بطور تنخواہ ادا کی گئی ہے تو اسے ڈائریکٹر فیس قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ڈائریکٹر کی تنخواہ اور بورڈ میٹنگ میں شرکت کے عوض ملنے والی فیس الگ الگ نوعیت رکھتی ہیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ ٹیکس ریٹرن میں غلطی سے کسی رقم کو ڈائریکٹر فیس ظاہر کرنے سے اس کی اصل حیثیت تبدیل نہیں ہوتی۔
فیصلے کے مطابق ڈائریکٹرز کے ٹیکس ریٹرنز اور تنخواہ کے ریکارڈ سے یہ ثابت ہوا کہ متعلقہ رقوم تنخواہ کی مد میں ادا کی گئی تھیں۔
لاہور ہائیکورٹ نے ایف بی آر کے ساہیوال زون کی جانب سے دائر تمام ریفرنس اپیلیں مسترد کردیں۔



