لاہور ہائیکورٹ: مخصوص روٹس پر HOVs کی شرط کاروباری حق کی خلاف ورزی نہیں

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ نے لاہور ریلوے اسٹیشن سے کامونکی، مریدکے اور شرقپور شریف تک مخصوص ٹرانسپورٹ روٹس سے متعلق درخواست خارج کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ حکومت کی جانب سے ان روٹس پر ہائی آکوپینسی وہیکلز (HOVs) چلانے کے لیے مقرر کردہ شرائط قانون کے مطابق ہیں۔

جسٹس احمد ندیم ارشد نے شاہین ٹریول سروسز وغیرہ کی جانب سے دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ آئین کا آرٹیکل 18 شہریوں کو جائز تجارت اور کاروبار کا حق دیتا ہے، تاہم یہ حق غیر مشروط نہیں۔ ریاست کو عوامی مفاد میں لائسنسنگ، روٹ پرمٹ اور ٹرانسپورٹ سروسز کو ریگولیٹ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ مخصوص معیار کی گاڑیوں کو مخصوص روٹس پر چلانے کی شرط کاروبار کے بنیادی حق سے انکار نہیں بلکہ کاروباری سرگرمیوں کو قانون کے مطابق منظم کرنے کا اقدام ہے۔

فیصلے کے مطابق پنجاب حکومت نے موٹر وہیکلز آرڈیننس 1965ء کی دفعہ 45-A کے تحت لاہور ریلوے اسٹیشن سے کامونکی، مریدکے اور شرقپور شریف تک روٹس کو مخصوص قرار دیا، جہاں مقررہ معیار پر پورا اترنے والی ہائی آکوپینسی وہیکلز چلانے کی اجازت دی گئی ہے۔

درخواست گزاروں نے 2006ء اور 2010ء کے نوٹیفکیشنز سمیت 7 اپریل 2021ء کے اس حکم کو چیلنج کیا تھا جس کے ذریعے مذکورہ روٹس کو ڈی نوٹیفائی کرنے کی درخواست مسترد کی گئی تھی۔ ان کا مؤقف تھا کہ جنوری 2019ء سے ان روٹس پر ٹرانسپورٹ سروس فعال نہیں، جس کے باعث عوام کو مشکلات کا سامنا ہے اور حکومتی پالیسی سے ان کے کاروباری و آئینی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزاروں نے مقررہ روٹس پر HOVs کے روٹ پرمٹ کے لیے درخواست دینے کے بجائے لو آکوپینسی وہیکلز (LOVs) چلانے پر اصرار کیا، جو متعلقہ پالیسی کے مطابق نہیں۔ عدالت کے مطابق کاروبار کرنے کے طریقہ کار اور گاڑیوں کے معیار کو ریگولیٹ کرنا آئینی حق سے محرومی نہیں۔

لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی، جو اب پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی (PTC) کے نام سے کام کر رہی ہے، کے اختیارات سے متعلق عدالت نے قرار دیا کہ موٹر وہیکلز آرڈیننس کی دفعات 72-A اور 72-B کے تحت کمپنی کو شہری ٹرانسپورٹ روٹس کی منصوبہ بندی، درجہ بندی اور نگرانی کے اختیارات حاصل ہیں۔ 26 دسمبر 2022ء کے نوٹیفکیشن کے ذریعے کمپنی کے اختیارات پنجاب بھر تک بڑھائے گئے۔

عدالت نے درخواست گزاروں کے اس مؤقف کو بھی ریکارڈ سے ثابت شدہ نہیں مانا کہ مذکورہ روٹس پر کوئی ٹرانسپورٹ سروس دستیاب نہیں۔ پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی اور پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کی جانب سے مختلف روٹس پر بسوں کے آپریشن اور سبسڈی والے کرایوں پر ایئرکنڈیشنڈ بسوں کی سروس کا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا گیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ درخواست گزار 7 اپریل 2021ء کے حکم میں کسی قانونی خامی، دائرہ اختیار سے تجاوز یا قانون کی خلاف ورزی ثابت کرنے میں ناکام رہے، لہٰذا متعلقہ نوٹیفکیشنز اور حکومتی حکم قانون و آئین کے دائرہ کار میں ہیں اور درخواست خارج کی جاتی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button