سیشن جج کو دفعہ 22-A کی درخواستیں منتقل کرنے کا اختیار نہیں، لاہور ہائیکورٹ

لاہور(جانوڈاٹ پی کے)لاہور ہائیکورٹ نے ایک اہم قانونی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ سیشن جج کو فوجداری ضابطہ کی دفعہ 22-A کے تحت اندراجِ مقدمہ کی درخواستیں ایک جسٹس آف دی پیس سے دوسرے جسٹس آف دی پیس کو منتقل کرنے کا اختیار حاصل نہیں، تاہم غیر معمولی حالات میں قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواستوں کی منتقلی کا اختیار برقرار رہے گا۔
یہ فیصلہ جسٹس فاروق حیدر نے درخواست گزار فیصل منظور کی جانب سے سیشن جج اوکاڑہ کے حکم کے خلاف دائر آئینی درخواست پر سناتے ہوئے سیشن جج کے حکم کو جزوی طور پر کالعدم قرار دیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ دفعہ 22-A کے تحت اندراجِ مقدمہ کی درخواستوں کی منتقلی سے متعلق سیشن جج کا حکم دائرہ اختیار سے تجاوز کے مترادف ہے، اس لیے اسے کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ ایسی درخواستوں کی منتقلی کا اختیار صرف لاہور ہائیکورٹ کو آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت حاصل ہے، سیشن جج کو نہیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواستوں کی منتقلی کے معاملے میں سیشن جج کا اختیار قانون کے مطابق ہے، لہٰذا اس حصے کو برقرار رکھا جاتا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مقدمے میں مدعا علیہ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ مقامی بار کا رکن اور وکیل ہے، جبکہ درخواست گزار اسے ہراساں کر رہا ہے اور اسے تحصیل ہیڈکوارٹر دیپالپور میں جان لیوا حملے کا خدشہ ہے۔ فریقین نے ایک دوسرے پر ہراسانی، دھمکیوں اور حملے کے الزامات عائد کیے تھے، جن کے حوالے سے ایف آئی آر بھی درج ہو چکی تھی۔
عدالت نے قرار دیا کہ ایسے غیر معمولی حالات میں شفاف انصاف کو یقینی بنانے کے لیے قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواستوں کی منتقلی کا حکم درست تھا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں اس اصول کو بھی دہرایا کہ "انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا بھی نظر آنا چاہیے۔”
اہم قانونی نکتہ
سیشن جج دفعہ 22-A کے تحت اندراجِ مقدمہ کی درخواستیں ایک جسٹس آف دی پیس سے دوسرے جسٹس آف دی پیس کو منتقل نہیں کر سکتا۔
ایسی منتقلی کا اختیار صرف لاہور ہائیکورٹ کو آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت حاصل ہے۔
البتہ غیر معمولی حالات میں سیشن جج قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواستوں کی منتقلی کا اختیار استعمال کر سکتا ہے۔



