99فیصد اتفاق کےبعد مذاکرات کیوں توڑے؟شوکت یوسفزئی نے وفاقی حکومت سے بڑا سوال کردیا

پشاور (جانو ڈاٹ پی کے)پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے ترجمان شوکت یوسفزئی نے وفاقی وزراء کی پریس کانفرنسز پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری وفاقی وزراء پر عائد ہوتی ہے، 99 فیصد معاملات پر اتفاق رائے ہونے کا دعویٰ کرنے والی حکومت نے پھر مذاکرات سے پسپائی کیوں اختیار کی؟۔
شوکت یوسفزئی نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر صرف ایک فیصد معاملہ حل طلب تھا تو اس کے لیے مزید وقت دیا جاسکتا تھا۔ ان کے مطابق وفاقی وزراء کی جانب سے پی ٹی آئی پر سہولت کاری کے الزامات بے بنیاد ہیں، حکومت کسی بھی لیڈر کے خلاف کوئی ثبوت رکھتی ہے تو اسے سامنے لائے۔
انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت لانگ مارچ سے تباہ نہیں ہوئی، وزیراعظم کو چار سال ملے لیکن حکومتی معاشی پالیسیاں ناکام رہیں۔ ان کے بقول حکومت نے معیشت پر توجہ دینے کے بجائے پی ٹی آئی کو ختم کرنے پر اپنی توانائیاں صرف کیں۔
شوکت یوسفزئی نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے 2025 کے آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) اعلامیے پر عملدرآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون سے کبھی انکار نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنا پانچ کروڑ عوام کے مینڈیٹ کی توہین ہوگا۔



