پشاور(جانوڈاٹ پی کے) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے اسے صوبے کے عوام کے جمہوری مینڈیٹ اور آئینی حقوق کے منافی قرار دے دیا۔ پارٹی کی سیاسی کمیٹی اور کور کمیٹی نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں جاری لانگ مارچ کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتے ہوئے ان کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
پشاور میں پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی اور کور کمیٹی کے مشترکہ اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ صوبے کے عوام کے جمہوری مینڈیٹ پر حملہ ہوگا، جس سے سیاسی کشیدگی اور عوامی بے چینی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
اعلامیے کے مطابق ضم شدہ قبائلی اضلاع کے عوام کے آئینی حقوق، امن اور ترقی کا تحفظ ناگزیر ہے۔ ان علاقوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کا بنیادی مقصد عوام کے حقوق کا تحفظ اور احساس محرومی کا خاتمہ تھا، لہٰذا ایسے کسی بھی اقدام کی مخالفت کی جائے گی جو ان مقاصد کے منافی ہو۔
پی ٹی آئی نے دہشت گردی اور دہشت گردوں کی ہر شکل میں غیر مشروط مذمت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے صوبائی اسمبلی کی منظور شدہ قراردادوں، سیاسی و پارلیمانی جماعتوں کے متفقہ مؤقف اور عوامی نمائندوں کی مشاورت کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔ پارٹی کے مطابق عوامی اعتماد اور تعاون کے ذریعے ہی مؤثر اور پائیدار اقدامات ممکن ہیں۔
اجلاس کے شرکا نے خیبرپختونخوا میں ممکنہ گورنر راج یا ایمرجنسی کی مخالفت کرنے والی سیاسی جماعتوں، بالخصوص عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی کے جمہوری مؤقف کا خیرمقدم کیا۔ اعلامیے میں دیگر سیاسی جماعتوں سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ آئین کی بالادستی، جمہوری روایات اور عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی اور کور کمیٹی نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں لانگ مارچ کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ آئینی و قانونی حقوق، بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور دیگر جائز مطالبات کے حصول کے لیے پُرامن احتجاج پارٹی کا آئینی اور جمہوری حق ہے۔
اعلامیے میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے ساتھ اختلافات کی خبروں کی بھی تردید کی گئی۔ مؤقف اختیار کیا گیا کہ وہ مصروفیات کے باعث اجلاس میں شریک نہیں ہو سکے، اس لیے ان کے ساتھ کسی اختلاف یا اختلافی گفتگو کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ دونوں کمیٹیوں کے ارکان نے متفقہ طور پر ان کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ سیاسی صورتحال، بالخصوص خیبرپختونخوا میں کسی غیر معمولی آئینی یا انتظامی اقدام کی صورت میں سیاسی کمیٹی اور کور کمیٹی دوبارہ مشترکہ اجلاس منعقد کرکے آئندہ کا متفقہ لائحۂ عمل طے کریں گی۔ پی ٹی آئی نے آئین کی بالادستی، عوامی مینڈیٹ کے احترام، جمہوری اداروں کے تحفظ اور پُرامن سیاسی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔