خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ، صدر زرداری نے وزیراعظم کی سمری پر دستخط کر دیے

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کی سفارش پر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی سمری پر دستخط کر دیے۔ وفاقی کابینہ نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری دی تھی۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی سطح پر ہونے والے اجلاس میں خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورتحال پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں کابینہ کو دہشت گردی کے واقعات اور صوبے میں امن و امان سے متعلق بریفنگ دی گئی، جس کے بعد حالات کی سنگینی کے پیش نظر آئینی اختیارات استعمال کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔
وفاقی کابینہ نے وزیراعظم کو سفارش کی کہ وہ صدرِ مملکت کو آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا مشورہ دیں۔ اس کے بعد وزیراعظم ہاؤس سے سمری ایوانِ صدر بھجوائی گئی، جس پر صدر آصف علی زرداری نے دستخط کر دیے۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ، وزیر مملکت طلال چودھری، امیر مقام، سید عمران شاہ، حنیف عباسی، معین وٹو، پرویز خٹک، احد چیمہ، مصطفیٰ کمال اور ہارون اختر سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران وفاقی کابینہ نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں صوبائی حکومت کے کردار کا جائزہ لیا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کے لیے صوبائی حکومت کا تعاون ضروری ہے۔
ذرائع کے مطابق ایمرجنسی کے معاملے پر حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے مولانا فضل الرحمن کے ذریعے ایک اور کوشش کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور آئی۔ اجلاس کے دوران نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے مولانا فضل الرحمن سے رابطہ کیا اور ان سے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت دہشت گردی کے خلاف وفاقی حکومت کا ساتھ دے۔
بعد ازاں وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت طلال چودھری ایوانِ صدر پہنچے اور صدرِ مملکت کو وفاقی کابینہ کے فیصلے سے آگاہ کیا۔ صدر کی جانب سے سمری پر دستخط کے بعد خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان سامنے آیا۔



