جوڈیشل ٹاور منصوبہ عدالتی تاریخ کا منفرد منصوبہ ہے، تکمیل سے وکلاء اور سائلین کو جدید سہولیات ملیں گی، اعظم نذیر تارڑ

لاہور (جانوڈاٹ پی کے) وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ جوڈیشل ٹاور منصوبہ پاکستان کی عدالتی تاریخ کا ایک منفرد اور تاریخی منصوبہ ہے، جس کی تکمیل سے وکلاء، سائلین اور عدالتی عملے کو جدید اور معیاری سہولیات فراہم ہوں گی۔
جوڈیشل ٹاور کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پنجاب کی پہلی خاتون چیف جسٹس عالیہ نیلم اپنے بعد آنے والوں کے لیے ایک اہم ورثہ چھوڑ کر جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس نے اپنے دور میں ججز کی مراعات یا رہائشی سہولیات کے بجائے عدالتی نظام، وکلاء اور سائلین کی بہتری کو ترجیح دی۔
وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے اپنے قانونی سفر کا آغاز لاہور سے کیا اور ان کا وژن عدالتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ چیف جسٹس عالیہ نیلم کی خصوصی خواہش پر خواتین وکلاء کے لیے بہتر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا، جس کے تحت پنجاب میں جدید فیمیل بار رومز اور ڈے کیئر سینٹرز قائم کیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ آف دی آرٹ بار کمپلیکس میں تمام جدید سہولیات فراہم کی گئی ہیں، جبکہ جوڈیشل ٹاور میں سیکڑوں گاڑیوں کی پارکنگ سمیت وکلاء اور سائلین کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام انتظامات کیے گئے ہیں۔
وفاقی وزیر قانون نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور چیف سیکرٹری پنجاب کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ منصوبے کی تکمیل میں صوبائی حکومت نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ، وکلاء برادری اور منصوبے سے وابستہ تمام حکام کو مبارکباد دیتے ہوئے یقین دلایا کہ وفاقی حکومت جوڈیشل ٹاور منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔



