اسلام آباد میں سناٹا: سفارتی محاذ  پر بے چینی، پاک بحریہ کا میزائل تجربہ

اسلام آباد: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے)​امریکہ اور ایران کے درمیان 15 روزہ سیز فائر کی آخری تاریخ (22 اپریل) قریب آتے ہی اسلام آباد میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کے باعث سناٹا چھایا ہوا ہے، تاہم سفارتی محاذ پر شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سربراہی میں وفد کی آمد تاحال تاخیر کا شکار ہے، جبکہ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھے گا۔

​صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسلسل جارحانہ بیانات اور ‘فتح’ کے دعووں نے مذاکراتی عمل کو مشکل بنا دیا ہے۔ ایرانی سپیکر باقر قالیباف کا موقف ہے کہ ایران مذاکرات کی میز کو ‘ہتھیار ڈالنے کی میز’ میں تبدیل نہیں ہونے دے گا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اگر سیز فائر کی مدت میں توسیع نہ ہوئی تو خطہ ایک بار پھر خوفناک جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، ایران کے پاس تاحال اپنی 70 فیصد جنگی صلاحیت محفوظ ہے اور وہ طویل جنگ لڑنے کی پوزیشن میں ہے، جبکہ امریکہ کے لیے زمینی فوج اتارنا ‘ویتنام’ جیسی دلدل ثابت ہو سکتا ہے۔

​اس کشیدہ صورتحال کے دوران، پاکستان کا دفتر خارجہ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ٹیم شب و روز اس کوشش میں مصروف ہے کہ سیز فائر ختم ہونے سے پہلے فریقین کو کسی سمجھوتے پر آمادہ کیا جا سکے یا کم از کم جنگ بندی کی مدت میں توسیع کرائی جا سکے۔ اسلام آباد کی ویران سڑکیں اس بڑے سفارتی معرکے کے انتظار میں ہیں جو عالمی امن کا فیصلہ کرے گا۔

​دوسری جانب، پاک بحریہ نے دفاعی محاذ پر ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے اینٹی شپ ویپن سسٹم ‘تیمور’ (ایئر لانچ کروز میزائل) کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق، اس تجربے نے پاک بحریہ کی سمندری خطرات سے نمٹنے اور دشمن کے اہداف کو ٹھیک نشانہ بنانے کی صلاحیت کو مزید مستحکم کر دیا ہے۔ اس کامیاب تجربے کو خطے کی موجودہ صورتحال میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔

​اس صورتحال پر تفصیلی تجزیہ اور تازہ ترین اپ ڈیٹس سینئر صحافی امداد سومرو نے اپنے حالیہ ویلاگ میں پیش کی ہیں۔

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button