ایرانی جہاز امریکی حراست میں اور ‘میرا بمقابلہ بھٹی’

لاہور: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے)امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سیز فائر کی مدت آج رات 12 بجے ختم ہونے جا رہی ہے، تاہم مذاکراتی عمل تاحال ڈیڈ لاک کا شکار ہے۔ اس تناؤ کی سب سے بڑی وجہ ابنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کی جانب سے ایک ایرانی بحری جہاز کو تحویل میں لینا بتائی جا رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق، امریکہ نے ایران جانے والے ایک بڑے تجارتی جہاز کو تلاشی کے لیے روکا ہے جس میں درجنوں کنٹینرز موجود ہیں۔ امریکہ کو شبہ ہے کہ اس جہاز میں چین سے ایران کے لیے جدید میزائل ٹیکنالوجی یا ڈرونز منتقل کیے جا رہے تھے۔ ایرانی حکام نے اس واقعے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جب تک ان کا جہاز اور عملہ رہا نہیں کیا جاتا اور سمندری ناکہ بندی ختم نہیں ہوتی، وہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ میں شرکت نہیں کریں گے۔ دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سیز فائر کی مدت میں مزید اضافے کا اشارہ دے سکتے ہیں، کیونکہ جنگ کا راستہ خود امریکہ کے اندرونی حالات کے لیے سودمند نہیں ہوگا۔
سیاسی تناؤ کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر اداکارہ میرا اور سینئر صحافی ارشاد بھٹی کے درمیان ہونے والا حالیہ تنازع بھی زیرِ بحث ہے۔ ایک پوڈکاسٹ کے دوران ارشاد بھٹی کی جانب سے اداکارہ میرا سے کیے گئے نجی سوالات پر عوامی حلقوں اور صحافتی برادری کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صحافتی اخلاقیات کسی کی نجی زندگی میں مداخلت کی اجازت نہیں دیتیں، تاہم دونوں شخصیات کو ‘اٹینشن سیکر’ (توجہ حاصل کرنے والے) قرار دیا جا رہا ہے جو اکثر عوامی بحث کا حصہ رہنے کے لیے ایسے معاملات کا سہارا لیتے ہیں۔
اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے تیاریاں مکمل ہیں، لیکن تمام نظریں اب اس بات پر جمی ہیں کہ آیا رات 12 بجے سے پہلے کوئی مثبت پیش رفت ہوتی ہے یا خطہ ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو جاتا ہے۔
اس صورتحال پر تفصیلی تجزیہ گوہر بٹ کے اس حالیہ ویلاگ میں ملاحظہ کریں ۔




