ٹرمپ امریکا، اسرائیل میں انتخابات ہونے کے بعد ایران پر بڑے حملے کر سکتے ہیں، امریکی جریدہ

واشنگٹن(ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی تیاریوں کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ امریکی جریدے بلومبرگ کے مطابق امریکا اور اسرائیل میں انتخابات کے بعد ٹرمپ ایران پر بڑے حملوں کا حکم دے سکتے ہیں، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے دوبارہ شدت اختیار کرنے کے خدشات بڑھنے لگے ہیں۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے حالیہ بیانات سے بظاہر اشارہ ملتا ہے کہ امریکی مڈٹرم انتخابات سے قبل ایران پر دوبارہ حملوں کا امکان کم ہے۔ ٹرمپ اس سے پہلے دعویٰ کر چکے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ چند ہفتوں میں ختم ہو جائے گی، تاہم تازہ صورتِ حال جنگ میں مزید شدت آنے کے خدشات کو تقویت دے رہی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ پہلے ہی تیسرا طیارہ بردار بحری بیڑہ اور مزید 10 ہزار امریکی میرینز خلیجی خطے کی جانب روانہ کر چکے ہیں۔ دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں ان امریکی فوجی اڈوں پر تعینات عملے کی تعداد مبینہ طور پر کم کی جا رہی ہے جنہیں ایرانی جوابی حملوں کے دوران شدید نقصان پہنچا تھا۔

بروکنگز انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ مشرقِ وسطیٰ کے ایک ماہر کے مطابق تمام اشارے اس جانب ہیں کہ جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے اور اس دوران بڑے پیمانے پر فضائی بمباری کیے جانے کا امکان ہے۔

انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے مشرقِ وسطیٰ کے ماہر علی واعظ نے خبردار کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ایران کے ساتھ جنگ کو اپنی سیاسی مشکلات سے نکلنے کا ذریعہ سمجھ سکتے ہیں، تاہم سیاسی مستقبل بچانے کے لیے شروع کی جانے والی جنگ الٹا ان کے سیاسی مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل میں 27 اکتوبر کو انتخابات ہونے جا رہے ہیں، جن میں ووٹرز اپنے آئندہ وزیراعظم کا انتخاب کریں گے، جبکہ امریکا میں 3 نومبر کو مڈٹرم انتخابات منعقد ہوں گے۔ ان انتخابات کے تناظر میں ایران کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کے وقت اور شدت سے متعلق قیاس آرائیاں بڑھ رہی ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button