ایران:احتجاجی مظاہروں میں پُرتشدد کارروائیوں میں ملوث 2 افراد کو پھانسی

تہران(جانوڈاٹ پی کے)ایران کی عدلیہ نے اعلان کیا ہے کہ رواں سال کے آغاز میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں سے تعلق رکھنے والے 2 افراد کو پھانسی دے دی گئی۔

ایرانی عدلیہ کے زیر انتظام خبر رساں ادارے میزان نیوز کے مطابق جواد زمانی اور ابوالفضل سعیدی کو ان مظاہروں کا مسلح سرغنہ قرار دیا گیا تھا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں افراد کو عوامی نظم و ضبط میں خلل ڈالنے، قومی سلامتی کے خلاف سازش کرنے اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے جیسے الزامات میں سزا سنائی گئی تھی۔

میزان نیوز کے مطابق عدالت نے مقدمات کی سماعت کے بعد دونوں ملزمان کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت کا حکم دیا تھا جس پر آج عمل درآمد کیا گیا۔ جس سے قبل مجرموں کو تمام تر قانونی چارہ جوئی کے مواقع اور سہولت فراہم کی گئی۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں نے ایران میں سزائے موت کے بڑھتے ہوئے استعمال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے منگل کو کہا تھا کہ ایران میں 2026 کے دوران اب تک کم از کم 40 افراد کو ’’قومی سلامتی‘‘ سے متعلق مقدمات میں پھانسی دی جا چکی ہے۔

ان کے بقول ان میں سے 18 ایسے افراد ہیں جنھیں احتجاجی مظاہروں میں شرکت کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی۔ جو ہر شہری کا ایک بنیادی حق ہوتا ہے۔

وولکر ترک نے ایران پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکام اختلاف رائے کو دبانے کے لیے ’سخت اور بے رحمانہ کریک ڈاؤن کو مزید تیز کر رہے ہیں۔

انھوں نے ایرانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ سزائے موت پر عمل درآمد روکا جائے اور سیاسی یا احتجاجی سرگرمیوں سے متعلق مقدمات میں بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کو یقینی بنایا جائے۔

ادھر ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ملک میں امن و امان اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف کارروائیاں قانون کے مطابق کی جا رہی ہیں، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں ان مقدمات میں شفافیت اور منصفانہ عدالتی عمل پر سوالات اٹھاتی رہی ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button