تھر لینڈ گرانٹ پالیسی کا مسودہ ضلعی کونسل سے منظور کرا کے سندھ حکومت کو بھیجا جائے گا،ڈاکٹرغلام حیدر سمیجو

تھرپارکر (رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) تھر سٹیزن فورم کے وفد نے نئی تیار کردہ تھر لینڈ گرانٹ پالیسی کے مسودے کے حوالے سے ضلع کونسل تھرپارکر کے چیئرمین اور پاکستان پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر ڈاکٹر غلام حیدر سمیجو سے ملاقات کی اور انہیں تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ سننے کے بعد ڈاکٹر غلام حیدر سمیجو نے اعلان کیا کہ تھر لینڈ گرانٹ پالیسی کے مسودے کو ضلع کونسل کے اجلاس میں قرارداد کی صورت میں منظور کرا کے سندھ حکومت کو ارسال کیا جائے گا۔ تھر سٹیزن فورم کے وفد میں اوبھایو جونیجو، عظمیٰ ابڑینگ، قانونی ماہر قربان سمیجو، جی ایم بجیر اور ساجن چارو شامل تھے۔ وفد نے ضلع کونسل ہال میں ملاقات کے دوران بتایا کہ مجوزہ پالیسی میں تھر کے عوام کے حقوق، تھر کول منصوبوں اور زمینوں سے متعلق نئے نکات شامل کیے گئے ہیں۔ وفد کے مطابق 1930ء، 1986ء اور 2002ء کی لینڈ گرانٹ پالیسیاں عوامی حقوق کے بجائے سرکاری اور کارپوریٹ مفادات کو مدنظر رکھ کر بنائی گئی تھیں، جن میں ترمیم کی ضرورت ہے۔ اسی پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے نئی پالیسی مرتب کی گئی ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ مسودے میں زمین کی ملکیت، یکسالہ زمینوں، گوچر، چراگاہوں، تالابوں، کنوؤں اور آسائش زمینوں سمیت مقامی آبادی کے حقوق کا تحفظ شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ شہروں میں سٹی سروے، مالکانہ حقوق کی فراہمی، دیہہ اور مکانات کی بنیاد پر حد بندی، اور تھر کول و دیگر بڑے منصوبوں کے زیر اثر زمینوں میں مقامی باشندوں کے حقوق کے تحفظ کی تجاویز بھی شامل ہیں۔ وفد نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ مجوزہ تھر لینڈ گرانٹ پالیسی پر مشاورت کے بعد اسے منظور کرانے میں تعاون کیا جائے تاکہ تھر کے عوام کو اویکی، اینیمی پراپرٹی، بیگوٹی نمبرز اور یکسالہ زمینوں سے متعلق مسائل میں ریلیف مل سکے۔ اس موقع پر ڈاکٹر غلام حیدر سمیجو نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تھر لینڈ گرانٹ پالیسی کا مسودہ قابلِ تعریف ہے۔ مزید ریونیو ماہرین سے مشاورت کے بعد اسے ضلع کونسل کے اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی تھر سٹیزن فورم کی اس کاوش کو سراہتی ہے اور ضلع کونسل سے منظوری کے بعد سندھ حکومت کو باضابطہ سفارش بھی ارسال کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ تھر سٹیزن فورم مسلسل عوامی مسائل پر متحرک کردار ادا کر رہا ہے اور ہم بھی بہتر اقدامات کے لیے فورم کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔ ملاقات کے دوران وفد نے تھر میں درختوں کی کٹائی، تھر کول منصوبوں میں مقامی افراد کو روزگار نہ ملنے اور دیگر حق تلفیوں کے معاملات بھی اٹھائے اور حکومت سے مقامی لوگوں کے مسائل حل کرانے کی اپیل کی۔

مزید خبریں

Back to top button