فیفا ورلڈکپ: ایران کا میچ کے فوراً بعد امریکا چھوڑنے کی ہدایت پر شدید ناراضی کا اظہار

نیویارک(جانوڈاٹ پی کے)فیفا ورلڈکپ 2026 کے اپنے افتتاحی میچ میں نیوزی لینڈ کے خلاف 2-2 گول سے مقابلہ برابر رہنے کے بعد ایرانی ٹیم نے فیفا اور سفری انتظامات پر کھل کر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔
کپتان مہدی طارمی، مڈفیلڈر محمد محبی اور ہیڈ کوچ امیر قلعہ غلینوئی نے دعویٰ کیا کہ ٹیم کو مسلسل مشکلات کا سامنا ہے اور میچ کے فوراً بعد لاس اینجلس چھوڑنے کی ہدایت نے صورتحال مزید پیچیدہ بنا دی۔
امیر غلینوئی کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کو ریکوری کے لیے وقت درکار تھا لیکن انہیں فوری طور پر میکسیکو کے شہر تیخوانا واپس جانے کا کہا گیا۔
ان کے مطابق ایران اس ورلڈ کپ کی سب سے زیادہ متاثر ہونے والی ٹیم ہے کیونکہ ٹیم کے کئی عہدیدار، میڈیا نمائندے اور فیڈریشن حکام امریکا میں داخل نہیں ہو سکے ہیں۔
مہدی طارمی نے بھی انتظامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈ کپ جیسے بڑے ایونٹ میں ٹیموں کو بہتر سہولیات ملنی چاہئیں۔
ان کے مطابق تیخوانا سے لاس اینجلس کا مختصر سفر بھی امیگریشن مسائل کے باعث پانچ گھنٹے طویل ہوگیا جس سے کھلاڑیوں کی جسمانی تھکن میں اضافہ ہوا۔
میچ کے بعد فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو ایرانی ڈریسنگ روم پہنچے اور کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا ٹیم کی جدوجہد اور عزم کو دیکھ رہی ہے۔
انہوں نے ایرانی ٹیم کو ورلڈ کپ میں اپنی مہم جاری رکھنے اور مشکلات کے باوجود بہترین کارکردگی دکھانے کی تلقین کی۔
دوسری جانب ایرانی کوچ نے میکسیکو اور خصوصاً تیخوانا کے عوام کی مہمان نوازی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہاں انہیں گھر جیسا ماحول فراہم کیا گیا۔



