پاکستان کی ثالثی میں امریکا کے ساتھ مذاکرات کا عمل آگے بڑھ رہا ہے، ایران

تہران(جانوڈاٹ پی کے\ویب ڈیسک) ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان بات چیت پاکستان کی ثالثی کے ذریعے جاری ہے اور دونوں فریقین نے ایران کی حالیہ تجویز پر اپنے اپنے ردعمل اور آراء بھی ارسال کر دی ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق ایران کی جنگ کے خاتمہ پر توجہ ہے، مذاکرات کا عمل مکمل طور پر براہ راست نہیں بلکہ ثالثی چینل کے ذریعے آگے بڑھ رہا ہے، جس میں پاکستان کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

ترجمان نے واضح کیا کہ حالیہ پیش رفت کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان بنیادی اختلافات برقرار ہیں، تاہم رابطے کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا، ایران نے اپنی تجاویز پیش کر دی ہیں اور امریکا کی جانب سے بھی جواب موصول ہوا ہے، جن پر مزید غور جاری ہے۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق ایرانی اور عمانی تکنیکی ٹیموں نے گزشتہ ہفتے عمان میں آبنائے ہرمز محفوظ جہاز رانی کے طریقۂ کار پر مذاکرات کیے اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ آبنائے ہرمز کے طریقۂ کار پر مسلسل رابطے میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کو خطے کے کسی بھی ملک، بشمول متحدہ عرب امارات سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔

اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران یورینیم افزودگی کے اپنے حق پر نہ تو کسی قسم کی بات چیت کرے گا اور نہ ہی کوئی سمجھوتہ، یہ بات قطعی ہے کہ یہ کوئی ایسا موضوع نہیں جس پر ہم بات چیت یا سمجھوتہ کریں، معاہدہ عدم پھیلاؤ کے تحت ایران کے افزودگی کے حق کو تسلیم کیا جا چکا ہے۔

بقائی نے امریکہ اور ایران کے درمیان شرائط کے تبادلے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ایران کے مطالبات واضح ہیں، ایران کے منجمد اثاثوں پر سے پابندیاں ختم ہونے کو اپنی شرط کہتے ہیں جبکہ ہم اسے اپنا مطالبہ قرار دیتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اب بین الاقوامی سطح پر قابلِ اعتبار نہیں رہا، اور خطے کے ممالک، بشمول متحدہ عرب امارات، کو حالیہ مہینوں کے واقعات سے سبق سیکھنا چاہئے ، امریکی موجودگی نے خطے کے امن کو بہتر بنانے کے بجائے اسے شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button