گھوٹکی میں قبضہ مافیا کے خلاف بڑا آپریشن، 100 ایکڑ جنگلاتی اراضی واگزار

گھوٹکی (رپورٹر وجے کمار چاولہ\جانوڈاٹ پی کے)گھوٹکی میں قبضہ مافیا کے خلاف بڑی کارروائی: پہلے ہی دن 100 ایکڑ جنگلاتی اراضی سے قبضہ ختم کروایا گیا. مشیر برائے جنگلات و جنگلی حیات، حکومتِ سندھ میر بابل خان بھیو کی ہدایات اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج گھوٹکی کی صدارت میں قائم فاریسٹ کمیٹی کے فیصلوں پر عملدرآمد کرتے ہوئے، محکمہ جنگلات نے ڈیزنل فاریسٹ آفیسر ضیاد ﷲ لغاری کی سربراہی میں سرکاری جنگلاتی اراضی کو واگزار کرانے کے لیے ایک بڑے آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں پہلے دن کی کامیاب کارروائی کے دوران، میرپور جنگل میں غیر قانونی طور پر قبضہ کی گئی 100 ایکڑ کی وسیع اراضی کو کامیابی سے خالی کرا لیا گیا۔ اراضی خالی کرانے کے فوراً بعد، محکمہ جنگلات نے زمین کا سرکاری کنٹرول سنبھال لیا اور جنگل کی بحالی کے لیے وہاں ببول/کیکر کے بیجوں کا چھڑکاؤ کر دیا ہے اس سلسلے میں ڈی ایف او گھوٹکی ضیاء اللہ لغاری نے بتایا کہ یہ آپریشن ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے احکامات کی تعمیل میں، ڈپٹی کمشنر گھوٹکی، ایس ایس پی گھوٹکی کی مکمل حمایت اور افتخار احمد آرائیں (کنزرویٹر آف فاریسٹ، سکھر سرکل) کی اسٹریٹجک ہدایات کے تحت کیا جا رہا ہے اور یہ سلسلہ اگلے تین دن تک ضلع گھوٹکی کے میرپور، عادل پور اور جروار کے جنگلات میں پوری شدت کے ساتھ جاری رہے گا۔” انہوں نے مزید کہا کہ عید کی تعطیلات کے بعد، پاکستان رینجرز کے تعاون سے ایک آپریشن شروع کیا جائے گا تاکہ باقی تمام حساس جنگلاتی علاقوں کو خالی کرایا جا سکے، جبکہ شہری علاقوں کے ان مقامی ڈیلروں کا بھی سخت نوٹس لیا ہے جو قبضہ کرنے والوں کو کھاد اور کیڑے مار ادویات فراہم کر کے جنگلاتی زمین پر غیر قانونی کاشتکاری کی سہولت کاری کرتے ہیں۔



