23 ہزار فٹ گہرائی میں قدیم سمندری راز بے نقاب

لندن(جانوڈاٹ پی کے)بین الاقوامی محققین کی ایک ٹیم نے بحرِ ہند کی تقریباً 23 ہزار فٹ گہرائی میں ایک عظیم الشان وہیل کا قبرستان دریافت کیا ہے، جس کی لمبائی تقریباً 745 میل بتائی جا رہی ہے۔

یہ حیرت انگیز دریافت جنوب مشرقی بحرِ ہند کے ڈائمینٹینا فریکچر زون میں ہوئی، جہاں وہیلوں کی باقیات کے ساتھ ساتھ کئی ایسی جاندار انواع بھی ملیں جو پہلے کبھی کہیں اور نہیں دیکھی گئیں۔

محققین کو یہاں جیلی فش، ٹیوب وارمز، برٹل اسٹارز، سمندری کھیرے، اسکواٹ لابسٹرز اور نمکین پانی کی سیپیاں ملیں، جن میں سے بعض ممکنہ طور پر سائنس کے لیے بالکل نئی انواع ہیں۔

سائنس دانوں کے مطابق اس مقام پر موجود کچھ وہیل باقیات کی عمر 53 لاکھ سال تک پرانی ہو سکتی ہے، جو اسے دنیا کے قدیم ترین سمندری قبرستانوں میں شامل کرتی ہے۔

سمندر کی تقریباً 4 میل گہرائی میں واقع یہ زیرِ آب ’شہرِ خموشاں‘ نہ صرف وہیلوں کی قدیم باقیات سے بھرا ہوا ہے بلکہ ایسے جانداروں کا بھی مسکن ہے جنہیں سائنس نے شاید ابھی تک باضابطہ طور پر شناخت نہیں کیا۔

یہ غیر معمولی تحقیق اٹلی، چین اور نیوزی لینڈ کے سائنس دانوں کی مشترکہ ٹیم نے انجام دی۔

مزید خبریں

Back to top button