حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان بڑا راؤنڈ، بجلی مہنگی ہونے کا خطرہ پھر منڈلانے لگا

اسلام آباد(جانو ڈاٹ پی کے)حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان اہم مذاکرات آئندہ ہفتے ہونے کا امکان ہے، جن میں توانائی اصلاحات، نجکاری اور بجلی و گیس کے گردشی قرضے کے سیٹلمنٹ پلان پر بریفنگ دی جائے گی، جبکہ بجلی کے بنیادی ٹیرف میں ردوبدل بھی زیرِ غور آنے کا امکان ہے۔
مذاکرات کے دوران بجلی اور گیس کے ترسیلی نظام میں اصلاحات اور نجی شعبے کی شمولیت سے متعلق حکومتی اقدامات سے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا جائے گا۔ حکومت نے بجلی کی مسابقتی مارکیٹ کے لیے ٹیرف طے کرلیا ہے، تاہم نیلامی کا عمل تاحال شروع نہیں ہوسکا۔
حکومت کی جانب سے اسلام آباد، فیصل آباد اور ملتان الیکٹرک سپلائی کمپنیوں کی نجکاری کے لیے اظہارِ دلچسپی کے نوٹس بھی جاری کیے جاچکے ہیں، جبکہ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے تقسیم کار کمپنیوں کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بجلی کے شعبے کا گردشی قرض 1614 ارب روپے تک محدود رکھنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ جنوری 2027 میں بجلی کے بنیادی ٹیرف میں ردوبدل متوقع ہے۔
آئندہ سال بجلی کی سبسڈی مستحق صارفین کو انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے فراہم کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔ تاہم بجلی کی مکمل لاگت وصول کرنے اور کراس سبسڈی کے خاتمے کی صورت میں بجلی کے ٹیرف میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔



