کوہاٹ دھماکے پر اختیار ولی کی تشویش، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

پشاور (جانوڈاٹ پی کے) عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اختیار ولی خان نے کوہاٹ دھماکے میں قیمتی جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے میں زخمی ہونے والوں میں پولیس اہلکار اور شہری بھی شامل ہیں۔
اپنے بیان میں اختیار ولی خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ صوبے کے مسائل پر توجہ دینے کے بجائے کراچی اور لاہور میں مصروف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں تعلیم اور صحت کا نظام تباہ ہوچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کا وزیراعلیٰ 16 دن سے کہاں ہے؟ سہیل آفریدی استعفیٰ دے دیں تو صوبے کا گزارہ ہوجائے گا۔
اختیار ولی خان نے الزام عائد کیا کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں کرپشن کے نئے ریکارڈ قائم ہورہے ہیں، جبکہ جامعات کے وائس چانسلرز بھی مسائل کے حل کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں اس وقت دہشت گردی اور اسمگلنگ کے مسائل موجود ہیں اور صوبے کی انتظامی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔
انہوں نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت گورنر راج نافذ کرنا چاہتی ہے تو وہ یہ فیصلہ بھی کرسکتی ہے، ہم صوبے کو سنبھال لیں گے۔ ان کے مطابق عوام ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں۔
اختیار ولی خان نے مزید کہا کہ صوبے کی پولیس کا مورال بلند کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ حکومت کے نمائندے شہدا کے جنازوں میں شرکت نہیں کرتے، جبکہ صوبے میں پولیس، ڈاکٹرز اور خاصہ دار فورس ہڑتال پر ہیں۔



