فلسطینی پرچم لہرانے پر مصری کوچ حسام حسن کا دوٹوک مؤقف، فیفا نے کارروائی سے انکار کر دیا

ہیوسٹن(جانوڈاٹ پی کے)فیفا ورلڈکپ 2026 کے راؤنڈ آف 32 میں آسٹریلیا کو شکست دینےکے بعد مصر کے کوچ حسام حسن نے فلسطینی عوام سے یکجہتی کے اظہار کے لیےگراؤنڈ میں فلسطین کا جھنڈا لہرا کر دنیا بھر میں انسانیت کا درد رکھنے والوں کے دل جیت لیے۔
مصری کوچ کی اسٹیڈیم میں فلسطین کا پرچم لہرانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے۔
پری کوارٹر فائنل میں ارجنٹینا سے اہم مقابلے سے قبل پریس کانفرنس میں مصری فٹبال ٹیم کے ہیڈ کوچ حسام حسن نے فلسطین کا پرچم لہرانےکے عمل کا بھرپور دفاع کیا اور فلسطینی عوام کی حالتِ زار پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو شخص فلسطینی عوام کی تکلیف اور مصیبت کو محسوس نہیں کرتا، وہ انسان نہیں اور انسانیت کے حقیقی جذبے سے محروم ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کھلے آسمان تلے اور خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جہاں انہیں زندگی کے ہر پہلو میں شدید مشکلات اور اذیت کا سامنا ہے، یہ ہم سب کے لیے شرم کی بات ہےکہ ایک پوری قوم کو ایسے کٹھن حالات میں تنہا چھوڑ دیا گیا ہے، یہ ہم سب کے لیے شرمندگی کی بات ہے، صرف عرب دنیا کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے باعث شرمندگی ہے،سب سے بڑھ کر ان فیصلہ سازوں کے لیے شرمندگی کا باعث ہے جو انسانوں کو اس حالت میں اکیلا چھوڑ دیتے ہیں۔
حسام حسن نے کہا کہ فلسطینی عوام جن حالات سے گزر رہے ہیں، ان پر خاموش رہنا ممکن نہیں، اسی لیے انہوں نے فلسطینی پرچم لہرا کر ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا، ہزاروں بچوں اور خواتین کا قتل انتہائی دردناک ہے، وہاں بیماریوں، خوراک کی شدید قلت، سخت موسمی حالات اور ختم نہ ہونے والی انسانی تکالیف نے صورتحال کو انتہائی سنگین بنا دیا ہے۔دنیا میں کہیں بھی، چاہے یورپ ہو یا امریکا اگر کسی جانور کو نقصان پہنچایا جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ جانوروں کے حقوق کا دفاع کیا جاتا ہے اور پوری دنیا ردِعمل ظاہر کرتی ہے، لیکن اب یہ معمول بنتا جا رہا ہے کہ ایک میزائل حملے میں دو یا تین ہزار افراد کے مارے جانےکی خبریں سنائی دیتی ہیں۔
اٹلانٹا میں پریس کانفرنس کے دوران حسام حسن کے اس بیان پر وہاں موجود کئی صحافیوں نے تالیاں بجا کر ردعمل کا اظہار کیا۔
مصر کی جانب سے سب سے زیادہ گول کرنے والے سابق مصری فٹبالر حسام حسن نے فیفا، کھلاڑیوں اور میڈیا سے اپیل کی کہ وہ فٹبال کو فلسطینی عوام کے حق میں آواز بلند کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کریں۔
انہوں نے کہا کہ مذہب سے بالاتر ہو کر، میں عرب یا کسی اور شناخت سے پہلے ایک انسان ہوں۔ فٹبال کے ذریعے میرا پیغام یہ ہے کہ جس طرح فیفا کا نعرہ ہم سب کے درمیان احترام کا مطالبہ کرتا ہے، اسی طرح میں امید کرتا ہوں کہ لوگوں کے زندہ رہنے کے حق کا بھی احترام کیا جائے گا۔
فیفا کا مصری کوچ کیخلاف کوئی کارروائی نہ کرنےکا فیصلہ
دوسری جانب فیفا نے آسٹریلیا کے خلاف مصر کی فتح کے بعد فلسطینی پرچم تھام کر جشن منانے پر مصر کے ہیڈ کوچ حسام حسن کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس فیصلے پر اسرائیل کے بعض سیاسی اور کھیلوں سے وابستہ حلقوں میں تنقید سامنے آئی ہے۔
اسرائیلی اخبار کے مطابق فیفا نے واضح کیا ہے کہ فلسطینی پرچم لہرانا ٹورنامنٹ کے قوانین کی خلاف ورزی نہیں ہے، کیونکہ یہ فیفا کی 211 رکن تنظیموں میں سے ایک کی نمائندگی کرتا ہے۔ فیفا نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا کہ حسام حسن کا عمل ورلڈکپ کے قوانین کے تحت کسی ممنوعہ سیاسی مظاہرے کے زمرے میں آتا ہے۔



