بدین:ہاری کارڈز میں سنگین غلطیوں نے ہزاروں کسانوں کو مشکلات میں ڈال دیا، فوری اصلاح کا مطالبہ

بدین (رپورٹ: مرتضیٰ میمن)سندھ حکومت کی جانب سے سال 2022 سے 2026 تک گندم کی کاشت کے لیے چھوٹے آبادگاروں کو فراہم کی جانے والی سبسڈی کے تحت جاری کیے گئے ہاری کارڈز میں بدین کے متعدد آبادگاروں نے سنگین غلطیوں کی نشاندہی کی ہے۔ متاثرہ کسانوں کے مطابق محکمہ زراعت کی جانب سے جاری کردہ کارڈز میں شناختی کارڈ نمبرز اور نام غلط درج کیے گئے ہیں، جس کے باعث ہزاروں کسانوں کے کارڈز سندھ بینک میں تصدیقی مرحلے پر التوا کا شکار ہیں متاثرہ آبادگاروں کا کہنا ہے کہ انہیں بار بار بینک اور زرعی دفاتر کے چکر لگانے پڑ رہے ہیں جس کے نتیجے میں ان کے ہزاروں روپے خرچ ہو چکے ہیں تاہم ان کے مسائل حل نہیں کیے جا رہے ان کے مطابق سندھ بینک کا عملہ نام اور شناختی کارڈ نمبر کی تصدیق کے لیے محکمہ زراعت سے تصدیقی خط لانے کا مطالبہ کرتا ہے جبکہ زرعی دفتر پہنچنے پر متعلقہ عملہ اکثر دستیاب نہیں ہوتا آ بادگاروں نے الزام عائد کیا کہ ضلع زرعی افسر رمیش کمار میگھواڑ تصدیقی عمل میں تعاون نہیں کر رہے ان کا کہنا ہے کہ بعض افراد کو دو دو ہاری کارڈ جاری کیے گئے ہیں تاہم ان میں موجود غلطیوں کی تصدیق اور اصلاح نہیں کی جا رہی کسانوں نے مزید دعویٰ کیا کہ بااثر اور سفارشی افراد کو تصدیقی خطوط جاری کیے جا رہے ہیں جبکہ غریب اور چھوٹے آبادگار شدید مشکلات سے دوچار ہیں بدین کے چھوٹے آبادگاروں رسول بخش، امید علی اور دیگر متاثرین نے وزیر اعلیٰ سندھ، ڈپٹی کمشنر بدین اور متعلقہ اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ زراعت ضلع بدین افسر رمیش کمار میگھواڑ سمیت محکمہ کے اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور متاثرہ کسانوں کو فوری طور پر تصدیقی خطوط جاری کیے جائیں تاکہ وہ حکومتی سبسڈی سے فائدہ اٹھا سکیں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مسائل فوری طور پر حل نہ کیے گئے تو وہ متعلقہ افسر کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے پر مجبور ہوں گے۔



