ہالا:سکول ٹیچر کی پولیس حراست مبینہ ہلاکت کے خلاف لواحقین کا لاش کے ساتھ نیشنل ہائی وے پر دھرنا
جب تک قاتلوں کو گرفتار کرکے سزا نہیں جائے گی لاش نہیں دفنائیں گے، لواحقین کا اعلان

ہالا (رپورٹ: امجد راجپوت\جانوڈاٹ پی کے)شہدادپور کے پرائمری سکول ٹیچر کی پولیس حراست میں مبینہ تشدد کے باعث ہلاکت کے خلاف لواحقین نے احتجاج کرتے ہوئے قومی شاہراہ بلاک کردی۔ لواحقین نے لاش سڑک پر رکھ کر ہرقسم کی ٹریفک بلاک کردی جس کے باعث گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ دنوں شہداد پور پولیس کی حراست میں گزشتہ دنوں پرائمری اسکول کے ہیڈ ماسٹر جام عزیز جاکھرو کی مبینہ ہلاکت کے خلاف لواحقین اور اہل علاقہ کا احتجاج جاری ہے۔
جام عزیز کے لواحقین کا کہنا تھا کہ شہداد پور پولیس کی جانب سے گرفتار کیا گیا ٹیچر دو بچوں کا باپ تھا جسے شہداد پور پولیس نے بغیر کسی کیس اور بغیر کسی وارنٹ گرفتاری کے گرفتار کیا اور اپنی تحویل میں مبینہ طور پر تشدد کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا۔
لواحقین کے مطابق جام عزیز جاکھرو کو پولیس نے غیر قانونی طور پر گرفتار کر کے دوران حراست بیہمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جس کے باعث اس کی حالت خراب ہوئی تو اسے پولیس نے ہسپتال کے باہر پھینک دیا۔
لواحقین کا الزام ہے کہ جام عزیز کے قتل میں ایس ایچ او غلام شبیر دلوانی سمیت دیگر اہلکار ملوث ہیں۔ ان کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کیا جائے گااور قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے قرار واقعی سزا دی جائے۔
مقتول کے لواحقین اور اہل علاقہ لاش کے ساتھ ہالا نیشنل ہائی وے پر موجود ہیں اور دھرنا دیا ہواہے ۔ مظاہرین کے دھرنے اور مطالبے کی وکلا تنظیموں اور دیگر طبقات نے بھی حمایت کی ہے
مقتول کی والدہ کا کہنا تھا کہ میرے بیٹے کو دھمکیاں دینے اور رقم کا مطالبہ کرنے کے جھوٹے الزام میں گرفتار کیا گیا ادائیگی نہ کرنے پر پولیس نے اسے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کی لاش ہسپتال میں لاوارث چھوڑ دی ان کا کہنا تھا کہ 48 گھنٹے گزر جانے کے باوجود پولیس نے ایس ایچ او غلام شبیر دلوانی سمیت قتل میں ملوث دیگر پولیس اہلکاروں کو گرفتار نہیں کیا جارہا۔
انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ جام عزیز جاکھرو کے خون کا انصاف کیا جائے اور ایس ایچ او غلام شبیر دلوانی اور دیگر ملوث پولیس اہلکاروں کو گرفتار کر کے سخت سے سخت سزا دی جائے جب تک ملزمان قاتل گرفتار نہیں ہوتے ہم لاش کو نہیں دفنائیں گے اور ہمارا دھرنا لاش کے ساتھ نیشنل ہائی وے پر جاری رہے گا۔



