گلگت بلتستان الیکشن،کہیں شیرکی دھاڑ،کہیں تیر چل گیا،آزادامیدوار بھی آگے پیچھے،اپوزیشن جماعتوں کا دھاندلی کاشور

گلگت/دیامر(جانوڈاٹ پی کے)گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہےاور مختلف حلقوں کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

جی بی اے 7 اسکردو میں تمام 31 پولنگ اسٹیشنز کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے سید توقیر مہدی 4500 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے ہیں، جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے راجا جلال حسین خان 4056 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔

جی بی اے 24 گھانچے 3 میں 46 پولنگ اسٹیشنز کے مکمل غیر حتمی نتائج کے مطابق آزاد امیدوار اسد شفیق 8092 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، جبکہ پیپلز پارٹی کے محمد اسماعیل 5072 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

جی بی اے 1 گلگت 1 میں 80 میں سے 5 پولنگ اسٹیشنز کے ابتدائی نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے امجد حسین 873 ووٹوں کے ساتھ آگے جبکہ مسلم لیگ ن کے محمد شفیق الدین 473 ووٹوں کے ساتھ پیچھے ہیں۔

جی بی اے 2 گلگت 2 میں 91 پولنگ اسٹیشنز میں سے 27 کے نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کے حفیظ الرحمان 4129 ووٹوں کے ساتھ برتری پر ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی کے جمیل احمد 2695 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔

جی بی اے 3 گلگت 3 میں 82 میں سے 39 پولنگ اسٹیشنز کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کے محمد اقبال 4452 ووٹوں کے ساتھ آگے ہیں، جبکہ آزاد امیدوار سید سہیل عباس 3765 ووٹوں کے ساتھ پیچھے ہیں۔

اسی حلقے میں پیپلز پارٹی کے آفتاب حیدر ایڈووکیٹ 2097 ووٹ لے کر پہلے جبکہ آزاد امیدوار سید سہیل عباس 1934 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔

جی بی اے 4 نگر 1 میں 53 میں سے 42 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے محمد علی اختر 5517 ووٹوں کے ساتھ سبقت میں ہیں، جبکہ اسلامی تحریک پاکستان کے محمد ایوب وزیری 4994 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

جی بی اے 5 نگر 2 میں 32 میں سے 10 پولنگ اسٹیشنز کے مطابق آزاد امیدوار جہانگیر شاہ 743 ووٹوں کے ساتھ آگے جبکہ مسلم لیگ ن کے جاوید علی منوا 560 ووٹوں کے ساتھ پیچھے ہیں۔

جی بی اے 6 ہنزہ میں 88 میں سے 12 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے مطابق آزاد امیدوار نیک نام کریم 937 ووٹ لے کر پہلے جبکہ آزاد امیدوار راجا نظیم الامین 478 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

جی بی اے 8 اسکردو 2 میں 70 میں سے 8 پولنگ اسٹیشنز کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق مجلس وحدت مسلمین کے محمد کاظم 1228 ووٹوں کے ساتھ آگے جبکہ پیپلز پارٹی کے سید محمد علی شاہ 936 ووٹوں کے ساتھ پیچھے ہیں۔

جی بی اے 9 اسکردو 3 میں 54 میں سے 9 پولنگ اسٹیشنز کے مطابق پیپلز پارٹی کے فدا محمد ناشاد 1870 ووٹ لے کر برتری پر ہیں، جبکہ آزاد امیدوار وزیر محمد سلیم 1061 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

جی بی اے 10 اسکردو 4 میں 51 میں سے 9 پولنگ اسٹیشنز کے مطابق مجلس وحدت مسلمین کے مشتاق حسین 1059 ووٹوں کے ساتھ آگے جبکہ پیپلز پارٹی کے ناصر علی خان 947 ووٹوں کے ساتھ پیچھے ہیں۔

جی بی اے 11 کھرمنگ میں 51 میں سے 9 پولنگ اسٹیشنز کے مطابق پیپلز پارٹی کے اقبال حسن 1174 ووٹوں کے ساتھ آگے ہیں جبکہ آزاد امیدوار شجاعت حسین 758 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

جی بی اے 12 شگر میں 71 میں سے 6 پولنگ اسٹیشنز کے مطابق پیپلز پارٹی کے عمران ندیم 1115 ووٹ لے کر برتری میں ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کے طاہر شگری 480 ووٹوں کے ساتھ پیچھے ہیں۔

جی بی اے 13 استور 1 میں 57 میں سے 36 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کے رانا فرمان علی 4368 ووٹ لے کر آگے جبکہ آزاد امیدوار شاہدہ 4312 ووٹوں کے ساتھ پیچھے ہیں۔

جی بی اے 17 دیامر 3 میں 46 میں سے 2 پولنگ اسٹیشنز کے مطابق مسلم لیگ ن کے محمد زمان 382 ووٹ لے کر پہلے اور پیپلز پارٹی کے محمد نسیم 356 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

جی بی اے 18 دیامر 4 میں 32 میں سے 8 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کے کفایت الرحمان 2453 ووٹوں کے ساتھ آگے جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے گلبر خان 2156 ووٹوں کے ساتھ پیچھے ہیں۔

جی بی اے 19 غذر 1 میں 78 میں سے 24 پولنگ اسٹیشنز کے مطابق مسلم لیگ ن کے ظفر محمد 2556 ووٹ لے کر پہلے جبکہ آزاد امیدوار نواز خان ناجی 2413 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

جی بی اے 20 غذر 2 میں 69 میں سے 20 پولنگ اسٹیشنز کے مطابق آزاد امیدوار صفدر علی شیرازی 1530 ووٹوں کے ساتھ آگے جبکہ مسلم لیگ ن کے عبدالجہاں 1504 ووٹوں کے ساتھ پیچھے ہیں۔

جی بی اے 22 گھانچے 1 میں ابتدائی نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کے محمد ابراہیم ثنائی 279 ووٹ لے کر آگے جبکہ پیپلز پارٹی کے عاشق حسین 261 ووٹوں کے ساتھ پیچھے ہیں۔

جی بی اے 23 گھانچے 2 میں 50 میں سے 6 پولنگ اسٹیشنز کے مطابق آزاد امیدوار انور علی 1328 ووٹوں کے ساتھ برتری پر ہیں جبکہ آزاد امیدوار عبد الحمید 254 ووٹوں کے ساتھ پیچھے ہیں۔

گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں مجموعی طور پر 403 امیدوار میدان میں تھے، اور ووٹروں نے اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا۔

مزید خبریں

Back to top button