تھرپارکر میں آٹے کا بحران شدت اختیار کرگیا، قیمت 6600 روپے فی من تک پہنچ گئی،اسسٹنٹ کمشنر کے چھاپے، متعدد آٹا چکیاں سیل

تھرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) سندھ حکومت کی گندم پالیسی پر سوالات اٹھنے لگے، ضلع تھرپارکر میں گندم کے آٹے کی قیمت 6600 روپے فی من تک پہنچ گئی، جس کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔عوامی شکایات پر اسسٹنٹ کمشنر مٹھی نے مختلف آٹا چکیوں پر چھاپے مارے، چکی مالکان کو وارننگ دی اور متعدد چکیاں سیل کردیں۔ انتظامیہ کی کارروائی کے خلاف آٹا چکی مالکان نے اپنی چکیاں بند کرکے احتجاج کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ تھرپارکر میں گندم کی مقامی کاشت نہ ہونے کے باعث گندم بیرونی علاقوں سے خرید کر لانی پڑتی ہے۔ چکی مالکان اور تاجروں کا کہنا ہے کہ جب بیراجی علاقوں میں گندم کی فصل تیار ہوئی تو سندھ حکومت نے انہیں گندم خریدنے اور ذخیرہ کرنے کی اجازت نہیں دی۔ ان کے مطابق اگر اس وقت گندم خرید کر ذخیرہ کرنے کی اجازت دی جاتی تو آج آٹے کی قیمت کم رکھنے میں مدد مل سکتی تھی۔تاجروں کا مزید کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں انہیں مہنگے داموں گندم خریدنا پڑ رہی ہے، جس کے باعث آٹا بھی مہنگا فروخت ہورہا ہے۔ دوسری جانب آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے، جبکہ چکیوں کی بندش سے آٹے کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہوگیا ہے۔ شہریوں نے سندھ حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ گندم کی فراہمی یقینی بنانے، آٹے کی قیمتوں میں کمی لانے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

مزید خبریں

Back to top button