ہائیکورٹس معمول کے حالات میں انتظامیہ کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے اس کی جگہ فیصلے نہیں کر سکتیں، وفاقی آئینی عدالت

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ ہائیکورٹس انتظامی اقدامات کی قانونی حیثیت کا جائزہ لے سکتی ہیں، تاہم معمول کے حالات میں انتظامیہ کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے اس کی جگہ فیصلے نہیں کر سکتیں۔ عدالت نے پولیس افسر منیر سامو کی درخواست منظور کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ کے لاڑکانہ سرکٹ کا 30 جون 2026 کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔
جسٹس روزی خان کی جانب سے تحریر کردہ 10 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا کہ سندھ ہائیکورٹ نے منیر سامو کو اسپیشل برانچ سے ہٹانے، ایک سال تک کراچی میں تعینات رکھنے، فیلڈ ڈیوٹی سے محروم کرنے اور ان کے خلاف تادیبی کارروائی کا حکم دے کر عدالتی نظرثانی کی حدود سے تجاوز کیا۔
فیصلے کے مطابق انکوائری میں منیر سامو کا مبینہ چھاپے میں کردار ثابت نہیں ہوا، جبکہ ان کا کردار انٹیلی جنس رپورٹس جاری کرنے تک محدود پایا گیا۔ انکوائری افسر نے بھی ان کے خلاف مزید کارروائی کی سفارش نہیں کی تھی، تاہم سندھ ہائیکورٹ نے دوسری انکوائری کے اہم نتائج کو مناسب طور پر مدنظر نہیں رکھا۔
وفاقی آئینی عدالت نے واضح کیا کہ سرکاری ملازمین کی تعیناتی، تبادلے اور تادیبی کارروائی مجاز انتظامی حکام کا اختیار ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت عدالتی مداخلت اسی صورت میں کی جا سکتی ہے جب اختیارات سے تجاوز، قانونی ذمہ داری پوری نہ کرنے یا کسی قانونی و آئینی حق کی خلاف ورزی کا معاملہ سامنے آئے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ سرکاری ملازمین کے خلاف انتظامی اور تادیبی اقدامات قانونی، منصفانہ اور متناسب ہونے چاہئیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ منصفانہ انکوائری اور مؤقف پیش کرنے کا حق آئین کے آرٹیکلز 4 اور 10 اے کے تحت تحفظ رکھتے ہیں۔



