فاٹا کی سابقہ آئینی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ، قبائلی جرگے کا 25ویں ترمیم کی مخالفت کااعلان

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے)نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران فاٹا قومی جرگہ اور فاٹا گرینڈ الائنس کے رہنماؤں نے فاٹا کی 11 ستمبر سے پہلے والی آئینی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام قبائل کی مشاورت کے بغیر انضمام کا فیصلہ قابلِ قبول نہیں۔ جرگے نے 25ویں آئینی ترمیم کی مخالفت کا بھی اعلان کیا۔

قبائلی عمائدین نے فاٹا کی نئی کونسل کے قیام کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ موجودہ انتظامی نظام میں ایف آر کوہاٹ اور ایف آر پشاور کو فوری طور پر شامل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ 25ویں آئینی ترمیم کے بعد کی گئی انتظامی تبدیلیاں قبول نہیں اور قبائلی روایات، قوانین اور خودمختاری کو تسلیم کیا جائے۔

جرگے کے رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قبائلی عمائدین کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے اور قبائلی امور سے متعلق تمام فیصلے متعلقہ قبائل کی مشاورت سے کیے جائیں۔

ملک شیر محمد خان نے کہا کہ قبائلی شناخت اور خودمختاری کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا۔ مشترکہ اعلامیے میں بتایا گیا کہ 25ویں آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست زیرِ سماعت ہے۔

فاٹا سپریم کونسل نے بھی واضح کیا کہ قبائلی خودمختاری کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رہے گی اور قبائلی علاقوں کے مستقبل سے متعلق فیصلوں میں تمام قبائل کی مشاورت کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔

مزید خبریں

Back to top button