بدین میں جے یو آئی کا مہنگائی، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج

بدین(رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو/ڈاٹ/پی کے)جمعیت علمائے اسلام ضلع بدین کی جانب سے مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مہنگائی، بجلی، گیس اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے خلاف ملک بھر سمیت بدین میں بھی جمعیت علمائے اسلام پاکستان کی اپیل پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرہ قطر مسجد سے شروع ہو کر پریس کلب بدین تک پہنچا، جس میں پارٹی رہنماؤں، کارکنوں اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے بڑھتی ہوئی مہنگائی پر سخت تشویش کا اظہار کیا احتجاجی مظاہرے میں ضلعی امیر قاری عبدالواحد فاروقی، ضلعی جنرل سیکریٹری مولانا فتح محمد مہیری، تعلقہ بدین کے امیر مولانا محمد اسماعیل خاصخیلی، تعلقہ تلہار کے امیر مفتی عبدالصمد جمالی، تعلقہ ٹنڈوباگو کے امیر حافظ عبدالواحد میمن، تعلقہ گولاڑچی کے امیر حافظ عباس علی شاہ، تعلقہ ماتلی کے جنرل سیکریٹری حافظ لال خان پھل، مولانا اللہ بخش نوتیار، علی محمد مری سمیت دیگر رہنماؤں، کارکنوں اور شہریوں نے شرکت کی اس موقع پر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ غریب اور متوسط طبقے کے لوگ دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہیں اور اپنے بچوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے بھی قاصر ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات نے عوام کو خودکشیاں کرنے پر مجبور کر دیا ہے جبکہ حکمران عوامی مشکلات سے مکمل طور پر بے پروا ہو چکے ہیں رہنماؤں نے مزید کہا کہ عوام سے پہلے ہی رہنے اور پہننے کی سہولتیں چھین لی گئی تھیں، لیکن اب آٹا بھی عوام کی پہنچ سے باہر کر دیا گیا ہے۔ آٹا، چینی، گھی، ادویات، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث غریب عوام شدید مشکلات بھری زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے فوری طور پر مہنگائی پر قابو نہ پایا اور عوام کو ریلیف فراہم نہ کیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا اور ہر فورم پر عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کی جائے گی۔

رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں فوری کمی کی جائے، روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے اور عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے۔

مزید خبریں

Back to top button