ٹرمپ کا ایران جنگ جلد ختم ہونے کا ایک بار پھر دعویٰ

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ بہت جلد ختم ہوسکتی ہے اور ممکنہ طور پر نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد تنازع کا خاتمہ ہوجائے گا۔
امریکی ریاست الاباما کے شہر موبائل میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن تہران کے ساتھ مذاکرات کے لیے یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہے کہ ایران میں کس سے بات کی جائے۔ ان کے بقول جنگ جلد ختم ہوسکتی ہے، تاہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
امریکی صدر نے ایران کی عسکری اور معاشی صورتحال سے متعلق بھی متعدد دعوے کیے اور کہا کہ تہران کے پاس بحریہ، فضائیہ، ریڈار اور طیارہ شکن دفاعی نظام موجود نہیں۔ انہوں نے ایران کی معیشت کو بھی شدید مشکلات سے دوچار قرار دیا۔
ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں امریکی بحری موجودگی کو ’فولادی دیوار‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اپنے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو میں دوبارہ تیل ذخیرہ کرنا شروع کرے گا۔
اس سے قبل بھی ٹرمپ متعدد مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ تنازع نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے دوران یا اس کے فوراً بعد ختم ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق اپنی شرائط پیش کی ہیں، جن میں جنگ بندی، امریکی پابندیوں اور ناکہ بندی کے خاتمے سمیت دیگر مطالبات شامل ہیں۔ حالیہ سفارتی کوششوں کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان بنیادی معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔
امریکی حکومت نے حالیہ دنوں میں ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے اشارے بھی دیے ہیں، جبکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثوں کے ذریعے رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔



