ٹرمپ کاایران کیخلاف’آخری آپریشن’ کافیصلہ،نیٹو بھی شامل

طاقتور ترین شخصیات احمد وحیدی اور باقر ذوالقدر کے ناموں کی گونج!

​اسلام آباد(جانوڈاٹ  پی کے)امریکہ اور ایران کے درمیان جیو پولیٹیکل تعلقات ایک مرتبہ پھر شدید ترین کشیدگی اور جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انقرہ میں نیٹو کے سیکرٹری جنرل کو ساتھ بٹھا کر پریس کانفرنس کرتے ہوئے طبلِ جنگ بجا دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے سنسنی خیز اعلان کیا ہے کہ اب ان کے نزدیک پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والا "اسلام آباد ایم او یو” مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے اور وہ ایران کے خلاف اب ادھورا "کام مکمل” کریں گے۔ امریکی صدر نے ایرانی قیادت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انہیں دغا باز قرار دیا اور واضح کیا کہ اگر آج ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتے تو وہ کب کا استعمال کر چکا ہوتا۔ اس بھیانک ترین صورتحال کی فوری وجہ ابنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے قطر کے ایل این جی، سعودی عرب کے تیل بردار بحری جہاز اور لائبیریا کے جہاز کو نشانہ بنانا ہے، جس کے بعد قطر اور سعودی عرب نے شدید سفارتی احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ حیران کن طور پر نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے بھی امریکی حملوں کی تائید کر کے ٹرمپ کی لائن کو ٹو کر لیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیٹو بھی اس ممکنہ جنگ کا حصہ بن چکا ہے۔

​دوسری جانب، ایران کے اندرونی حالات انتہائی پیچیدہ ہو چکے ہیں جہاں آیت اللہ علی خامنہ ای کی وفات کے بعد شدید داخلی کشمکش عروج پر ہے۔ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کے منظرِ عام پر نہ آنے اور کوئی ویڈیو بیان جاری نہ کرنے کی وجہ سے ان کے حیات ہونے پر شکوک و شبہات بڑھ گئے ہیں، جس کے بعد یہ سنسنی خیز تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ اس وقت ایران کے اصل معاملات مسعود پزیشکیان یا عباس عراقچی کے بجائے دو انتہائی طاقتور اور سخت گیر شخصیات احمد وحیدی اور باقر ذوالقدر چلا رہے ہیں، جو پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے دباؤ کے تحت کسی بھی سفارتی کامیابی کو سبوتاژ کر رہے ہیں۔ دوسری طرف ایران نے ٹرمپ کے اس بیان کو اسلام آباد میمورنڈم کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ کشیدگی کی ذمہ دار امریکی اور اسرائیلی اشتعال انگیزیاں ہیں۔ اگر اگلے 24 سے 48 گھنٹوں میں ثالثی کا کوئی عمل شروع نہ ہوا تو مڈل ایسٹ میں ایک ایسی ہولناک اور وسیع جنگ چھڑ سکتی ہے جس کے اثرات سے عالمی مارکیٹ اور ائل سپلائی چین طویل عرصے تک نہیں سنبھل پائے گی۔

​اس عالمی اور حساس ترین جیو پولیٹیکل صورتحال کے پوشیدہ حقائق کی مکمل تفصیلات جاننے کے لیے معروف تجزیہ کار کا سنسنی خیز وی لاگ آخر تک لازمی دیکھیں۔ ویڈیو دیکھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button