مذاکرات صرف دکھاوا؟بیرسٹر گوہر نے حکومت پرسنجیدہ قدم نہ اٹھانے کاالزام لگادیا

راولپنڈی (جانو ڈاٹ پی کے)چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ اگر حکومت نے پی ٹی آئی کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو لانگ مارچ روکنے کا کوئی جواز نہیں بنتا، مذاکرات کی پیشکش محض برائے نام ہے اور اب تک کوئی مثبت قدم نہیں اٹھایا گیا۔
راولپنڈی اڈیالہ روڈ فیکٹری ناکے کے قریب سلمان اکرم راجہ کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش صرف پیشکش کی حد تک ہے، عملی طور پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ ایک سال سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات بند ہے، گزشتہ سال اکتوبر میں ملاقات ہوئی تھی۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی ہمیشہ ریاست پاکستان کے ساتھ کھڑی رہی، تاہم نیک نیتی کے باوجود پارٹی قیادت کو اپنے لیڈر سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
بیرسٹر گوہر نے بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی گرفتاری پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ غیر سیاسی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آج اڈیالہ پہنچنے پر بتایا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کے کزن قاسم زمان کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے، جو کبھی کسی سیاسی سرگرمی یا سیاسی بیان میں ملوث نہیں رہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے قاسم زمان کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے ایم این ایز اور ایم پی ایز کو بھی حراست میں لیا گیا ہے، گرفتاریوں کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے نیک نیتی اور خلوص کے ساتھ حکومت سے مذاکرات کیے، لیکن حکومت نے فراخ دلی اور سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق پارٹی کے مطالبات میں کوئی غیر قانونی مطالبہ شامل نہیں تھا، جبکہ دہشت گردی کے معاملے پر پی ٹی آئی کا واضح مؤقف ہے اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد ہونا چاہیے۔



