تھرپارکر میں سبز درختوں کی کٹائی اور فروخت کا دھنداعروج پر،انتظامیہ خاموش تماشائی بن گئی

تھرپارکر(رپورٹ : میندھرو کاجھروی/ جانو ڈاٹ پی کے) مٹھی سمیت ضلع تھرپارکر کے مختلف تعلقوں میں سبز درختوں کی کٹائی اور انہیں آرا مشینوں پر فروخت کرنے کا کاروبار بڑے پیمانے پر جاری ہونے کے انکشافات سامنے آئے ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے اور انتظامیہ مبینہ طور پر مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مٹھی تعلقے کے مغربی علاقوں وجھو ٹو، سگھروڑ، بٹڑی انڑ اور پھل جی وانڈھ سمیت مشرقی اور شمالی علاقوں رنگیلو، لوبھار، کھاریو، کیکنیو اور گودھیار کے اطراف سے کنبھٹ، کنڈی، روہیڑو اور نیم کے تازہ سبز درخت بڑی تعداد میں کاٹ کر جیپوں اور دیگر گاڑیوں کے ذریعے منتقل کیے جا رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ لکڑی کو گاڑیوں میں بھر کر اوپر گھاس اور کپڑے ڈال کر مختلف آرا مشینوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ مقامی افراد نے الزام عائد کیا ہے کہ راستوں پر قائم پولیس چوکیاں ان گاڑیوں کو روکنے کے بجائے سہولت کاری میں مصروف ہیں۔ ذرائع کے مطابق بڑی گاڑی سے چار سے پانچ ہزار روپے جبکہ چھوٹی لانگ جیپ سے دو سے تین ہزار روپے لے کر انہیں چوکیوں سے گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ تھرپارکر میں بڑھتی ہوئی موسمیاتی تبدیلی، آلودگی اور ماحولیاتی خطرات کے باعث سبز درختوں کی کٹائی کو قانونی جرم قرار دیا گیا ہے، مگر اس کے باوجود بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی جاری ہے۔ خاص طور پر ڈیپلو اور کلوئی تعلقوں میں اینٹوں کے بھٹوں کے لیے بھی بڑی تعداد میں سبز درخت کاٹے جا رہے ہیں، جبکہ دیگر تعلقوں میں آرا مشینوں کی بڑھتی تعداد کے باعث بھی اس عمل میں تیزی آ گئی ہے۔ سماجی رہنماؤں، سول سوسائٹی اور باشعور حلقوں نے درختوں کی بے رحمانہ کٹائی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سندھ حکومت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاھ، سیکریٹری فاریسٹ، ہوم ڈیپارٹمنٹ، کمشنر میرپورخاص ڈویژن، ڈی آئی جی میرپورخاص، ڈپٹی کمشنر تھرپارکر اور ایس ایس پی تھرپارکر سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی کٹائی میں ملوث افراد، آرا مشین مالکان اور بھٹہ مالکان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور تازہ سبز درخت خریدنے پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔



