مغربی ایشیا میں پرانا نظام بحال نہیں ہونے دیں گے،ایران کاامریکااوراسرائیل کوواضح پیغام

ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق ایرانی مسلح افواج کے ترجمان ابوالفضل شکارچی نے کہا ہے کہ خطے کے ممالک اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں کہ امریکا کی نام نہاد سیکیورٹی چھتری کتنی مؤثر ہے۔
ابوالفضل شکارچی کا کہنا تھا کہ مغربی ایشیا میں امریکی سیکیورٹی نظام کی افادیت پر علاقائی ممالک کے سامنے سنجیدہ سوالات اٹھ چکے ہیں اور اب وقت آگیا ہے کہ وہ اس تجربے سے سبق سیکھیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم پر انحصار کرکے اپنے ممالک کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے۔
ایرانی فوجی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ امریکا خود خطے میں اپنی سلامتی یقینی بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتا، چہ جائیکہ وہ دوسرے ممالک کو تحفظ فراہم کرسکے۔ ان کے مطابق امریکی سیکیورٹی ضمانتوں پر انحصار جاری رکھنے کی صورت میں علاقائی ممالک کو غلط اندازوں اور فیصلوں کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران مغربی ایشیا میں امریکا اور اسرائیل کے زیرِ اثر علاقائی نظام کی بحالی کی مزاحمت کرے گا۔
دوسری جانب خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز اور عالمی سطح پر تیل و گیس کی ترسیل کی صورتحال بھی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت سے متعلق پابندیوں اور رکاوٹوں نے عالمی توانائی کی فراہمی اور ایندھن کی قیمتوں کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ اس اہم بحری گزرگاہ سے دنیا کی تیل اور مائع قدرتی گیس کی تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل وابستہ ہے۔
ایران خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو بھی حملوں کا نشانہ بناتا رہا ہے، جبکہ فراہم کردہ تفصیلات میں یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب میں تنصیبات اور ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ باب المندب کے بحری راستے اور ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو ممکنہ خطرات کے حوالے سے بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے، جس سے خطے میں تیل کی پیداوار اور ترسیل متاثر ہونے کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔



