پالیسی اسلام آباد سے آئے گی،کابل،قندھار سے نہیں،فیصل کریم کنڈی کااعلان

گورنر راج کے نفاذ کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گزشتہ 13 سال کے دوران پیدا ہونے والی خرابیوں کو درست کرنے میں وقت لگے گا، تاہم تین ماہ میں حکومتی اقدامات کے نتائج اور تبدیلی نظر آنا شروع ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ آج ان کا پہلا ورکنگ ڈے تھا اور وفاق نے ان پر اعتماد کیا ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ آخری اقدام ہوتا ہے۔ قانون ہاتھ میں لینے والے ہر شخص کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا اور کسی کو صوبے میں بدمعاشی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے سابق صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی حکومت وفاق کے ساتھ تعاون نہیں کر رہی تھی اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر مؤقف اختیار نہیں کیا جاتا تھا۔ سیاسی احتجاج پر طنز کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ انقلاب لانے والے گورنر ہاؤس تک بھی نہیں پہنچ سکے۔
گورنر خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی بہتری کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا، جبکہ سیکیورٹی اداروں کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ کی جانب سے پولیس کے لیے 10 گاڑیاں فراہم کی گئی ہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے کے 12 اضلاع میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے جائیں گے اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔ شہدا کے بچوں کی سرپرستی اور ان کے خاندانوں کے ساتھ تعاون بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
سہیل آفریدی سے متعلق سوال پر گورنر نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ کے مطابق سہیل آفریدی حفاظتی تحویل میں ہیں اور محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جج نہیں ہیں کہ فیصلہ کریں کون گرفتار ہوگا اور کون رہا کیا جائے گا؛ جن افراد کے خلاف مقدمات ہوں گے، انہیں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا، جبکہ مقدمات نہ ہونے کی صورت میں انہیں رہا کیا جائے گا۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ان کے اقدامات ہی ان کے مؤقف کا جواب ہوں گے اور صوبے میں قانون کی عمل داری یقینی بنائی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وفاق سے خیبرپختونخوا کے مالی حقوق کا معاملہ دلیل کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔
گورنر کے مطابق صدر مملکت اور وزیراعظم جلد خیبرپختونخوا کا دورہ کریں گے اور صوبے کے مسائل حل کرنے میں کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی توجہ ترقی، خوشحالی اور عملی اقدامات پر مرکوز رہے گی۔
سرحدی صورتحال کے باعث تاجروں کو درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ کاروباری برادری کے مسائل جلد حل کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ تجارتی سرگرمیوں کو بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے حالیہ سیاسی احتجاج پر بھی تنقید کی اور دعویٰ کیا کہ عوام نے احتجاجی سرگرمیوں کو مسترد کیا۔ گورنر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ احتجاج کرنے والوں کا کنٹینر اب بھی کھڑا ہے، لیکن اسے ہٹانے کے لیے کوئی نہیں آ رہا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ گورنر ہاؤس میں مہمانوں کی خاطر تواضع کے انتظامات کیے گئے تھے، تاہم اب تک کسی نے گورنر ہاؤس کی دیواریں نہیں پھلانگیں۔



