اے آئی کا خطرناک استعمال! یمن میں عسکری گروپ کی کلاڈ اے آئی تک رسائی کا انکشاف

یمن (جانو ڈاٹ پی کے) معروف امریکی ٹیکنالوجی کمپنی انتھروپک نے انکشاف کیا ہے کہ شمالی یمن میں موجود ایک عسکری سیل نے بیلسٹک میزائل اور دیگر ہتھیاروں سے متعلق پروگراموں کے لیے کمپنی کے مصنوعی ذہانت کے ماڈل کلاڈ اے آئی سے مدد لینے کی کوشش کی۔

انتھروپک کی جانب سے جمعرات کو جاری کی گئی انٹیلی جنس تھریٹ رپورٹ میں براہِ راست حوثیوں کا نام نہیں لیا گیا، تاہم کمپنی نے بتایا کہ شمالی یمن میں موجود ایک تخریبی سیل کی نشاندہی کی گئی جو ہتھیاروں کی تیاری سے متعلق تین پروگرام چلا رہا تھا۔ شمالی یمن کا بیشتر حصہ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے کنٹرول میں ہے۔

رپورٹ کے مطابق مذکورہ سیل نے جدید میزائل اور گائیڈڈ راکٹ پروگرامز کے لیے مصنوعی ذہانت سے مدد حاصل کرنے کی کوشش کی۔ انتھروپک کا کہنا ہے کہ کلاڈ اے آئی کو گائیڈنس، کنٹرول اور نیویگیشن سے متعلق سافٹ ویئر کے کاموں میں استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔

کمپنی کے مطابق اس کے اے آئی حفاظتی نظام نے اس سیل کی متعدد درخواستوں کو بلاک کیا، تاہم متعلقہ عناصر نے اپنے اصل مقاصد چھپانے کے لیے مختلف حربے اختیار کیے اور سرگرمیوں کو متعدد سیشنز میں تقسیم کیا، تاکہ کسی ایک سیشن سے ان کے مکمل ارادوں کا اندازہ نہ لگایا جاسکے۔

انتھروپک نے رپورٹ میں بتایا کہ ایسے عناصر نے مصنوعی ذہانت کو ہتھیاروں سے متعلق دیگر سرگرمیوں کے لیے بھی استعمال کرنے کی کوشش کی، جبکہ بعض افراد کی جانب سے حیاتیاتی ہتھیاروں کی تحقیق کے لیے بھی کلاڈ اے آئی استعمال کرنے کی متعدد کوششوں کا انکشاف ہوا۔

رپورٹ کے مطابق اس بات کے شواہد نہیں ملے کہ مذکورہ سیل مکمل طور پر آپریشنل ہتھیار تیار کرنے میں کامیاب ہوا، تاہم ایک گائیڈڈ راکٹ کے تجربے کا ذکر ضرور کیا گیا ہے۔ کمپنی کے مطابق تجربے کے بعد متعلقہ عناصر نے کلاڈ اے آئی سے تجربے کی ناکامی کی وجہ جاننے کی کوشش کی۔

انتھروپک کا کہنا ہے کہ اس نے ان سرگرمیوں سے وابستہ اکاؤنٹس پر پابندی عائد کردی ہے اور سامنے آنے والی معلومات متعلقہ سرکاری و نجی شراکت داروں کے ساتھ شیئر کردی ہیں۔

یہ واقعہ جدید مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال اور اسے عسکری و خطرناک مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوششوں سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات کو بھی نمایاں کرتا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button