بدین میں پینے کے صاف پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا ،اکرم واہ اور چینل واہ کا پانی آلودہ ہونیکا انکشاف

ماتلی (رپورٹ ایم آر گدی /جانو ڈاٹ پی کے) ضلع بدین کے سب سے بڑے شہر ماتلی سمیت بدین، تلہار، ٹنڈو باگو، گولارچی، پنگریو، کوسکی، نندو شہر، سیرانی، شہید فاضل راہو اور ضلع کے دیگر چھوٹے بڑے شہروں اور دیہی علاقوں میں پینے کے صاف پانی کا بحران سنگین صورتحال اختیار کر گیا ہے جہاں لاکھوں افراد، مویشیوں اور روزمرہ زندگی کی ضروریات کا بڑا انحصار اکرم واہ اور المعروف چینل واہ کے پانی پر ہے، تاہم شہری حلقوں، سماجی تنظیموں اور مقامی افراد کے مطابق یہ پانی کئی برسوں سے مسلسل آلودگی کا شکار ہے اور موجودہ صورتحال میں شہریوں کی بڑی تعداد سرکاری پانی پر اعتماد کھوتی جا رہی ہے، مقامی افراد کے مطابق کوٹری بیراج سے نکلنے کے بعد یہ پانی مختلف شہری، صنعتی اور گنجان آباد علاقوں سے گزرتا ہے جہاں مبینہ طور پر مختلف آبادیوں کا گندا پانی، مویشی باڑوں کا فضلہ، نکاسی آب، صنعتی فضلہ اور دیگر آلودہ مواد نہری نظام میں شامل ہونے کے باعث اکرم واہ اور چینل واہ کا پانی شدید آلودگی کا شکار ہو جاتا ہے جبکہ یہی پانی ماتلی، بدین، تلہار، ٹنڈو باگو، گولارچی، پنگریو، کوسکی، نندو شہر، سیرانی، شہید فاضل راہو اور دیگر علاقوں کی واٹر سپلائی اسکیموں کے ذریعے لاکھوں افراد تک پہنچایا جاتا ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران پانی کی آلودگی کے باعث ہیپاٹائٹس، گردوں کے امراض، معدے اور آنتوں کی بیماریوں، جلدی امراض اور دیگر پیچیدہ بیماریوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ صحت کے بڑھتے خدشات کے باعث شہریوں کی بڑی تعداد سرکاری پانی چھوڑ کر متبادل ذرائع اختیار کرنے پر مجبور ہو چکی ہے، مقامی حلقوں کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں ضلع بدین کے مختلف شہروں اور قصبوں میں سینکڑوں فلٹر پلانٹس، آر او پلانٹس اور منرل واٹر سپلائی مراکز قائم ہو چکے ہیں کیونکہ لوگ اپنی صحت کے تحفظ کے لیے مہنگا پانی خریدنے پر مجبور ہیں تاہم شہری یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ آیا ان فلٹر پلانٹس، آر او پلانٹس اور فروخت کیے جانے والے پانی کے معیار کی باقاعدہ جانچ کبھی کی گئی ہے یا نہیں کیونکہ ضلع کے بیشتر آر او پلانٹس زیر زمین پانی پر انحصار کرتے ہیں جبکہ زیر زمین پانی کے معیار اور اس میں موجود مضر اجزاء سے متعلق مؤثر نگرانی کا نظام واضح نظر نہیں آتا، شہری اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ پانی کا بحران اب صرف صاف پانی کی فراہمی کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ صحت عامہ، معیشت اور روزمرہ زندگی کا ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے کیونکہ ایک طرف لوگ مہنگا پانی خریدنے پر مجبور ہیں جبکہ دوسری طرف واٹر سپلائی نظام، فلٹریشن اور نگرانی کے مؤثر انتظامات نہ ہونے کے باعث صورتحال مزید تشویشناک بنتی جا رہی ہے، واضح رہے کہ سندھ میں پانی کی فراہمی، آلودگی اور واٹر سپلائی سے متعلق مسائل ماضی میں سندھ ہائی کورٹ کے واٹر کمیشن سمیت مختلف سرکاری اور عدالتی فورمز پر بھی زیر بحث آتے رہے ہیں جہاں صاف پانی کی فراہمی، آلودگی کے خاتمے اور واٹر سپلائی نظام کی بہتری کے لیے مختلف سفارشات اور ہدایات سامنے آتی رہی ہیں تاہم مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ زمینی سطح پر صورتحال میں خاطر خواہ بہتری نہیں آ سکی، شہریوں، سماجی تنظیموں اور مختلف حلقوں نے وفاقی و صوبائی حکومت، محکمہ صحت، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، واٹر سپلائی حکام، سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ پانی کے معیار کی فوری سائنسی جانچ، واٹر سپلائی نظام کی بہتری، فلٹر اور آر او پلانٹس کی نگرانی، آلودگی کے ذرائع کی روک تھام اور شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں تاکہ صحت عامہ کے مزید بحران سے بچا جا سکے۔#

مزید خبریں

Back to top button