جنوبی ایران پر امریکی فضائی حملے، خوزستان، ہرمزگان اور بوشہر میں متعدد مقامات نشانہ بنے

تہران(ویب ڈیسک) امریکی افواج نے جنوبی ایران کے مختلف علاقوں میں ایک بار پھر فضائی حملے کیے ہیں، جن میں خوزستان، ہرمزگان اور بوشہر کے متعدد شہر اور تنصیبات نشانہ بننے کی اطلاعات ہیں۔

رپورٹس کے مطابق جنوب مغربی صوبہ خوزستان میں کم از کم تین شہروں پر حملے کیے گئے، جن میں رامشیر بھی شامل ہے، جہاں ایک اسفالٹ پلانٹ کو نشانہ بنائے جانے کا دعویٰ کیا گیا۔ اس کے علاوہ اہواز سے ملحقہ علاقوں اور اہم بندرگاہی شہر ماہشہر میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

صوبہ ہرمزگان کے شہر سیریک میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ یہ شہر آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے اسٹریٹجک اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔

بوشہر کے گورنر نے رات گئے ہونے والے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ بوشہر جوہری بجلی گھر کے قریب واقع ایک بجلی کے سب اسٹیشن کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث شہر میں کئی گھنٹوں تک بجلی کی فراہمی معطل رہی۔

ادھر ایران کے مغربی سرحدی شہر شلمچہ میں عراق کی سرحد کے قریب بھی امریکی میزائل حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایک مقامی عہدیدار کے مطابق میزائلوں نے شلمچہ کے مسافر ٹرمینل کے اطراف کے علاقے کو نشانہ بنایا۔

اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا تھا کہ صدر کی ہدایت پر ایران کے فوجی اہداف کے خلاف مزید کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔ سینٹ کام کے مطابق ان حملوں کا مقصد ایران کی ایسی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے جو علاقائی سمندری راستوں سے گزرنے والے شہری اور تجارتی جہازوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان جاری عسکری کشیدگی بارہویں روز میں داخل ہو چکی ہے۔ خبر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حالیہ امریکی حملوں میں ایران کے اندر 3 بچوں سمیت 53 شہری جاں بحق ہوئے، جبکہ ایرانی جوابی کارروائیوں میں 4 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

نوٹ: اس خبر میں جانی نقصان اور حملوں سے متعلق بعض اعداد و شمار اور دعوے متعلقہ فریقین اور میڈیا رپورٹس پر مبنی ہیں، جن کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

مزید خبریں

Back to top button