امریکا کے سرک، بندر عباس اور جاسک پر حملے، پہلی بار سمندری ڈرون استعمال

واشنگٹن (ویب ڈیسک) ایران میں فوجی قیادت کے قریب سمجھی جانے والی خبر رساں ایجنسیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی ایران کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق سرک، بندر عباس اور جاسک کے قریب دیہات کے اطراف میں دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ خوزستان کے مقامی حکام نے صوبے کے کئی شہروں پر امریکی فضائی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔

ایرانی سرکاری خبر رساں اداروں کے مطابق خوزستان گورنریٹ حکام نے بتایا کہ رات 1:35 بجے اہواز کے اطراف میں دو مقامات کو امریکی میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ اس کے بعد بہبہان اور دزفول میں حملوں کی اطلاعات ملیں، جبکہ امیدیہ اور ماہشہر میں بھی متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹس کے مطابق آبادان اور شادگان کے بعض علاقوں میں بھی فضائی حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ خوزستان کے نائب گورنر نے بندر خمیر پر حملے اور دھماکوں کی اطلاعات کی تردید کی ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق ماہشہر میں زرعی واٹر پمپنگ اسٹیشن پر میزائل حملے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ 4 افراد زخمی ہوئے۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ 12 اور 13 جولائی کی درمیانی شب ایران کے خلاف نئی کارروائیاں مکمل کی گئیں، جن میں آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی ایرانی صلاحیت کمزور کرنے کے لیے درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

سینٹ کام کے مطابق امریکی افواج نے لڑاکا طیاروں، بحری جہازوں، فضائی ڈرونز اور پہلی بار سمندری ڈرونز کا استعمال کیا۔ امریکی بیان کے مطابق حملوں میں ایرانی فضائی دفاعی نظام، ساحلی ریڈار تنصیبات، میزائل اور ڈرون صلاحیتوں سمیت چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے اہم بحری گزرگاہ ہے، اور امریکی افواج اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تعینات ہیں کہ تجارتی جہاز آزادانہ آمد و رفت جاری رکھ سکیں۔

مزید خبریں

Back to top button