دبئی کی چمک دمک مصنوعی اور پلاسٹک لائف ہے،بشریٰ انصاری

کراچی(جانوڈاٹ پی کے)پاکستان شوبز انڈسٹری کی سینئر اداکارہ بشریٰ انصاری نے دبئی کی لائف کو برانڈڈ قرار دیتے ہوئے اس قسم کے طرز  زندگی پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر اداکارہ کا ایک ویڈیو کلپ وائرل ہو رہا ہے جس میں انہوں نے دبئی کے لائف اسٹائل پر گفتگو کی ہے۔

اداکارہ نے کہا کہ میں جب کبھی دبئی جاتی ہوں تو مجھے الجھن ہونے لگتی ہے، وہاں ہر چیز برانڈڈ ہے، سڑکیں برانڈڈ ہیں، لوگوں کے پاس ہیرے لٹک رہے ہیں، ہر جگہ خوشبو ہے، اگر شاپنگ مال میں جائیں تو برقع پہننے والی خواتین کی آنکھوں پر میک اپ اور پلکوں کی صورت میں پیسہ لگا ہوا ہے، ان کی پلکیں بھی جھوٹی ہیں اور ہونٹ بھی موٹے ہیں، اگر پاس سے گزر جائیں تو کروڑوں روپے کی خوشبو لگائی ہوتی ہے، مہنگے پرس ہوتے ہیں۔

بشریٰ انصاری کا کہنا تھا کہ دبئی میں سب برانڈڈ ہے، پلاسٹک لائف ہے، کچھ مشہور شخصیات کو دبئی کا گولڈن ویزا دیا جاتا ہے جس کیلئے وہ تھوڑی سی رقم بھی لیتے ہیں، ایک تو مجھے دبئی جانے کا کوئی شوق نہیں، دوسرا میرا کوئی رشتہ دار وہاں نہیں رہتا، میں نے کہا میں گولڈن ویزا کیوں لوں؟ مجھے وہاں نہیں جانا، اگر کبھی کوئی کام ہوتا ہے تو چلی جاتی ہوں، مجھے دبئی کا کوئی شوق نہیں ہے مجھے دبئی کا گولڈن ویزا نہیں خریدنا۔

سینئر اداکارہ نے یہ بھی کہا کہ مجھے یہ سب برانڈڈ چیزیں متوجہ نہیں کرتیں، ہم بہت practical زندگی گزار رہے ہیں، لوگ دبئی میں خوش ہیں، سڑکیں صاف ستھری ہیں لیکن وہاں کی برانڈڈ دنیا سے مجھے الٹی آتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دبئی، ابوظبی اور عرب ممالک سے مجھے یہ شکوہ ہے کہ انہوں نے ظاہری خوبصورتی پر کام کیا ہے، اپنی قوم کو educated نہیں کیا۔

مزید خبریں

Back to top button