بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں مستحق خواتین کی قسطوں سے مبینہ کٹوتی کا انکشاف

ٹنڈوباگو (رپورٹ:محمدسلیم میمن/جانوڈاٹ پی کے)بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام(BISP)میں مبینہ کرپشن اور مالی بے ضابطگیوں کا ایک اور تہلکہ خیز معاملہ سامنے آگیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ضلع بدین میں مستحق خواتین کو ملنے والی امدادی قسطوں سے مبینہ طور پر فی خاتون 2 ہزار سے 2500 روپے تک کٹوتی کی جا رہی ہے، جس کے باعث غریب خواتین شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ BISP کی جانب سے مستحق خواتین کو موبائل سموں کے ذریعے ادائیگی کا نظام متعارف کرایا گیا ہے، تاہم ادائیگی کے لیے مقرر ڈیوائس ہولڈرز پر الزام ہے کہ وہ رقم کی ادائیگی کے وقت مبینہ طور پر ہزاروں روپے کاٹ کر باقی رقم خواتین کے حوالے کرتے ہیں۔

رقم کا مبینہ حصہ ضلعی سطح سے لے کر اعلیٰ حکام تک پہنچایا جاتا ہے،ذرائع کاالزام

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ضلع بدین میں تقریباً 150 ڈیوائس ہولڈرز کام کر رہے ہیں اور مبینہ طور پر ہر ڈیوائس ہولڈر سے ڈیڑھ لاکھ روپے وصول کیے جاتے ہیں، جبکہ یہ بھی الزام لگایا جا رہا ہے کہ اس رقم کا مبینہ حصہ ضلعی سطح سے لے کر اعلیٰ حکام تک پہنچایا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ٹنڈوباگو اور گردونواح کے مختلف دیہات میں گزشتہ دو روز کے دوران ہونے والی ادائیگیوں میں بھی مبینہ کٹوتیوں کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ متاثرہ خواتین نے وفاقی حکومت، BISP کی چیئرپرسن اور متعلقہ تحقیقاتی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس حساس معاملے کا فوری نوٹس لے کر غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور مستحق خواتین کی مبینہ طور پر کٹی گئی رقم واپس دلائی جائے۔ دوسری جانب اس معاملے پر BISP کے متعلقہ حکام کا مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا، تاہم خبر فائل ہونے تک ان کا مؤقف موصول نہیں ہو سکا

مزید خبریں

Back to top button