پولیس آئین اور قانون کے تحت کام کرنے کے بجائے پیپلز پارٹی کے وڈیروں کی کمدار بن کر کام کر رہی ہے،رہنماعوامي تحريک 

ٹھٹھہ(جاوید لطیف میمن)جنگشاہی میں محترم رسول بخش پلیجو صاحب کی برسی کے جلسہ گاہ پر قبضے کے حوالے سے پولیس کی جانب سے درج کیے گئے کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ مکلی کی عدالت میں ہوئی

عدالت نے پولیس کے رویے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور ایس ایچ او مکلی کو ایک گھنٹے کے اندر عدالت میں پیش ہو کر رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا۔ پولیس کو ہدایات جاری کیں کہ قانون نافذ کر کے علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن کوش کی جائے۔ کیس کی آئندہ سماعت منگل تک ملتوی کر دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق سی آر پی سی 145 کے تحت پولیس کی جانب سے درج کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ وقاص افضل کی عدالت میں ہونی تھی، لیکن مجسٹریٹ کے رخصت پر ہونے کی وجہ سے کیس کی سماعت انچارج جج سیکنڈ سول جج اینڈ جوڈیشل مجسٹریٹ صبا ترک نے کی اور مذکورہ بالا احکامات جاری کیے۔

عوامی تحریک کے وکلا نے عدالت کو آگاہ کیا کہ مخالف فریق قبضے والے حصے کو بڑھا بھی رہا ہے، جھگڑے بھی کر رہا ہے، لوگوں کو زخمی بھی کیا گیا ہے، لیکن اس کے باوجود پولیس ایف آئی آر درج کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور نہ ہی قبضہ مافیا کو پلیجو صاحب کے مزار کے جلسہ گاہ سے متصل پلاٹ سے ہٹانے کے لیے تیار ہے۔

عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایڈوکیٹ وسند تھری، سپریم کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ سجاد احمد چانڈیو، عوامی تحریک کے مرکزی سینئر نائب صدر نور احمد کاتیار، عوامی تحریک کے ڈپٹی جنرل سیکریٹری ایڈوکیٹ راحیل بھٹو، عوامی تحریک کے تعلیمی سیکریٹری ایڈوکیٹ اسماعیل خاصخیلی، عوامی تحریک کے مرکزی تعلیمی سیکریٹری ایڈوکیٹ اظہار داؤدپوتہ، عوامی تحریک کے مرکزی رہنما عبدالقادر رانٹو، رسول بخش پلیجو صاحب کے فرزند اور عوامی تحریک کے مرکزی رہنما نور نبی پلیجو، عوامی تحریک ضلع ٹھٹہ کے صدر رزاق چانڈیو، ایڈوکیٹ فاضل زئور، ایڈوکیٹ ایاز خاصخیلی، ایڈووکیٹ احسن کیریو، عوامی تحریک کے رہنما گھنور خان زئور، مارو خش، دریاخان زئور، غلام علی زئور، امان اللہ بروہی، ربڑنو نوحانی، ایاز صالح پلیجو سمیت عوامی تحریک کے رہنما اور وکلاء بڑی تعداد میں موجود تھے۔ ٹھٹہ بار کونسل کے وکلا نے بھی عوامی تحریک کے رہنماؤں سے یکجہتی کا اظہار کیا۔

اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ وسند تھری نے کہا کہ جلسہ گاہ کے پلاٹ پر قبضے میں ایس پی ٹھٹہ ملوث ہے۔ قبضہ مافیا کو پولیس اور بااثر حلقوں کی سرپرستی حاصل ہے۔ سندھ پولیس کوئی ناخوشگوار واقعہ کرانا چاہتی ہے، لیکن ہم ہر صورت میں پرامن رہیں گے۔ ہم عدالتوں میں جائیں گے، سیاسی جدوجہد کریں گے، پرامن احتجاجی مظاہرے کریں گے، پولیس کی امن و امان تباہ کرنے کی سازش کو کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ 7 جولائی کو مکلی سے ٹھٹہ تک پرامن احتجاجی مارچ کیا جائے گا۔ وسند تھری نے کہا کہ برسی میں ہر سال لاکھوں لوگ آتے ہیں، لاکھوں لوگ گواہ ہیں، میڈیا گواہ ہے کہ یہ پلاٹ برسی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ لیکن 17 جون کو پولیس کے 2 اہلکاروں نے دیگر قبضہ مافیا کے ساتھ مل کر جلسہ گاہ کی دیوار توڑی اور قبضہ کر کے بیٹھ گئے۔ ایس پی ٹھٹھہ اور متعلقہ پولیس افسران کو مسلسل اطلاع دینے کے باوجود پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔

پھر 30 جون کی رات قبضہ مافیا نے پلیجو صاحب کے مزار پر آ کر پینافلیکس پھاڑ دیے تاکہ سندھ کے لوگ جذبات میں وہاں پہنچیں اور خونریزی ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہ ساری منصوبہ بندی پیپلز پارٹی نے کی ہے، جس نے سندھ پولیس کے ذریعے پلیجو صاحب کے مزار کے پینافلیکس پھڑوائے ہیں۔ اس وقت ملک میں ضیائی آمریت سے بھی زیادہ وحشی اور خونخوار آمریت مسلط ہے۔

انہوں نے کہا کہ اتنا بڑا واقعہ ہوا ہے، سارے سندھ میں احتجاج ہو رہے ہیں، سندھ کی تمام بار کونسلیں مذمتی قراردادیں منظور کر رہی ہیں، لیکن سندھ پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ حالانکہ پولیس نے خود تحریري طور پر تسلیم کیا ہے کہ امن و امان میں خلل کا خدشہ ہے۔ اس کے باوجود پولیس کی جانب سے کوئی قانونی کارروائی نہ کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ فارم 47 والی بلاول شہباز اتحادی حکومت سندھ حکومت کی ریاستی مشینری استعمال کر کے سندھ میں انتشار پھیلا رہی ہے۔ پولیس آئین اور قانون کے تحت کام کرنے کے بجائے پیپلز پارٹی کے وڈیروں کی کمدار بن کر کام کر رہی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button