اسلام آباد پر چڑھائی نہیں، پُرامن انداز میں جائیں گے، بیرسٹر گوہر

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ تحریک انصاف قانون کو کبھی ہاتھ میں نہیں لے گی، پاکستان اور ریاست سب سے پہلے ہیں، ہم پُرامن تھے، ہیں اور پُرامن رہیں گے۔
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ تحریک انصاف ایک سیاسی قوت ہے جس کی جڑیں عوام میں ہیں، ملک مزید تشدد کا متحمل نہیں ہوسکتا، طاقت میں موجود لوگوں کو عوام کے جذبات کا احساس کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے تعلقات ختم نہیں کیے بلکہ رابطے برقرار ہیں، ایک دوسرے کو دھمکیاں دینے سے حالات بہتر نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا نہیں بلکہ ملک کا بندوبست کریں، ہمارا تعاون آپ کے ساتھ ہوگا۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے واضح کیا کہ تحریک انصاف اسلام آباد پر چڑھائی کرنے نہیں جارہی۔ ان کے مطابق اگر کارکن اسلام آباد جائیں گے تو ان کے ہاتھوں میں پاکستان کے جھنڈے ہوں گے اور بانی پی ٹی آئی کے حق میں نعرے ہوں گے، تاہم قانون کو ہاتھ میں نہیں لیا جائے گا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ تحریک انصاف کو چار سال میں ایک بھی لانگ مارچ نہیں کرنے دیا گیا، جبکہ ان کے بقول حکومت کی جانب سے تین سال میں 11 لانگ مارچ کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے مقدمات میں انصاف کے مطابق فیصلے ہونا تحریک انصاف کا مطالبہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کی پیشکش ہوئی لیکن بات آگے نہیں بڑھ سکی۔ ان کے مطابق تحریک انصاف کے تقریباً 1500 کارکن گرفتار ہوچکے ہیں جبکہ ارکان اسمبلی کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کے وزرا کو بھی گرفتار کیا گیا، سوال یہ ہے کہ انہیں کس پاداش میں گرفتار کیا گیا؟ ہمیں کہا جارہا ہے کہ آگے بڑھے تو دہشتگردوں کی طرح نمٹا جائے گا، ہم پوچھتے ہیں کہ ہمیں دہشتگردوں کی طرح کیوں ٹریٹ کیا جائے گا، کیا ہم دہشتگرد ہیں؟
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ تحریک انصاف کو اکسایا جارہا ہے لیکن وہ دہشتگردوں کی طرح نہیں بلکہ بانی پی ٹی آئی کے لیے آواز اٹھاتے ہوئے آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنے حقوق کے لیے جمہوری انداز میں آگے بڑھنا ہے اور عدالتی فیصلے پر فوری عملدرآمد کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کے کارکنوں کے گھر توڑے گئے ہیں، وہ اسلام کے ماننے والے ہیں، اس لیے سوال ہے کہ ان کے گھر کیوں توڑے جارہے ہیں۔ ان کے مطابق شہریوں کو سوال کرنے کا حق حاصل ہے۔



