بدین میں پینے کے پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا، شہری سڑکوں پر نکل آئے

بدین (رپورٹ: مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ پی کے) بدین شہر کے سیرانی روڈ اور سول اسپتال روڈ کے رہائشیوں نے واٹر سپلائی کے ذریعے پینے کے پانی کی مسلسل عدم فراہمی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور متعلقہ حکام کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
مظاہرین سیرانی روڈ پر جمع ہوئے، جہاں انہوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور پانی کی قلت کے مسئلے کے فوری حل کا مطالبہ کیا۔ احتجاج کی قیادت انور انصاری اور مولوی نواز انصاری نے کی۔
اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ سیرانی روڈ اور سول اسپتال روڈ کے مکین کئی روز سے پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں، جس کے باعث خواتین، بچوں اور بزرگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پانی کی عدم دستیابی کے باعث شہری مہنگے داموں واٹر ٹینکر خریدنے پر مجبور ہیں، جبکہ غریب اور متوسط طبقے کے متعدد خاندان صاف پینے کے پانی جیسی بنیادی سہولت سے بھی محروم ہو چکے ہیں۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے متعدد بار متعلقہ محکموں اور حکام کو شکایات درج کرائی گئیں، تاہم اب تک کوئی مؤثر اور عملی اقدام نہیں کیا گیا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر واٹر سپلائی کا مسئلہ فوری طور پر حل نہ کیا گیا اور پانی کی باقاعدہ فراہمی بحال نہ کی گئی تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔
احتجاج کرنے والے شہریوں نے حکومت سندھ، ضلعی انتظامیہ اور واٹر سپلائی کے ذمہ دار حکام سے مطالبہ کیا کہ سیرانی روڈ اور سول اسپتال روڈ کے رہائشیوں کو بلا تاخیر صاف پینے کے پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور ان کے دیرینہ مسئلے کا مستقل حل نکالا جائے۔



