بریسٹ کینسر کی اسکریننگ میں AI کی بڑی پیش رفت، بعض میموگرامز کا جائزہ ریڈیولوجسٹ کے بغیر ممکن

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)طبی شعبے میں مصنوعی ذہانت (AI) نے خودکار تشخیص کی جانب اہم قدم اٹھا لیا۔ برلن میں قائم بریسٹ اسکریننگ کمپنی وارا (Vara) کے مصنوعی ذہانت پر مبنی خودکار ٹرائیج سسٹم کو کلاس IIb CE سرٹیفکیشن مل گئی ہے۔
کمپنی کے مطابق منظوری کے بعد یہ نظام بعض ایسے میموگرامز کی آزادانہ رپورٹنگ کرسکے گا جنہیں AI نارمل قرار دے، جبکہ دیگر کیسز انسانی ریڈیولوجسٹس کو تفصیلی جائزے کے لیے بھیجے جائیں گے۔
ٹیکنالوجی کا مقصد ریڈیولوجسٹس پر کام کا بوجھ کم کرنا اور انہیں معمول کے کم خطرے والے اسکینز کے بجائے زیادہ پیچیدہ اور مشتبہ کیسز پر توجہ دینے کا موقع فراہم کرنا ہے۔ کمپنی نے AI کی کارکردگی کی مسلسل نگرانی کے لیے مانیٹرنگ سسٹم بھی تیار کیا ہے۔
وارا کے مطابق اس کا AI نظام 2019ء سے جرمنی کے قومی بریسٹ اسکریننگ پروگرام میں استعمال ہورہا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا جائزہ PRAIM تحقیق میں لیا گیا، جو 2025ء میں Nature Medicine میں شائع ہوئی۔
تحقیق میں 12 اسکریننگ مراکز پر 4 لاکھ 61 ہزار 818 خواتین کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج کے مطابق AI کی معاونت سے ہر ایک ہزار خواتین میں کینسر کی نشاندہی کی شرح 6 فی ہزار رہی، جبکہ روایتی ڈبل ریڈنگ میں یہ شرح 5.7 فی ہزار تھی، یعنی کینسر کی تشخیص میں 17.6 فیصد اضافہ رپورٹ کیا گیا۔



