بدخشاں میں جھڑپوں سے افغانستان میں مزید اندرونی نقل مکانی کا خدشہ، یو این ایچ سی آر

کابل (ویب ڈیسک)اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے یو این ایچ سی آر نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان کے صوبہ بدخشان میں مسلح جھڑپوں اور پاکستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی کے باعث ملک کے اندر مزید لوگوں کے بے گھر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

یو این ایچ سی آر کی 25 اگست کو جاری رپورٹ کے مطابق افغانستان میں مسلح مخالف گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ بدخشان سمیت مختلف علاقوں میں ہونے والی جھڑپوں نے مزید نقل مکانی کے خدشات پیدا کردیے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ جولائی کے پہلے نصف میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا، جس کے دوران سرحدی علاقوں میں مسلح جھڑپوں، گولہ باری اور فضائی حدود کی خلاف ورزیوں کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ بعد ازاں سرحدی لڑائی میں کمی آئی، تاہم دونوں ممالک کے تعلقات بدستور کشیدہ ہیں۔

یو این ایچ سی آر کے مطابق ایران اور پاکستان سے افغان شہریوں کی واپسی اور بے دخلی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ایران میں قانونی رہائشی دستاویزات سے محروم افغان شہریوں کے خلاف کارروائیوں میں سختی، دستاویزات کی تجدید میں مشکلات اور بگڑتے سماجی و معاشی حالات نے افغان خاندانوں کو مزید متاثر کیا ہے۔

پاکستان میں بھی 10 جولائی سے افغان پناہ گزینوں کے خلاف کارروائیوں میں تیزی آنے کی اطلاعات ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق گرفتاریوں، چھاپوں اور ملک بدری کے ساتھ ساتھ مکان مالکان کی جانب سے افغان کرایہ داروں پر دباؤ اور بے دخلی نے بھی غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ افغانستان کے صوبہ ہرات میں خواتین پر مرکوز سرگرمیوں کے طریقہ کار میں تبدیلیوں سمیت انتظامی اور آپریشنل پابندیوں کے باعث انسانی امداد اور مختلف پروگراموں کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔

یو این ایچ سی آر نے بتایا کہ ایران میں غیر مستحکم حالات کے باوجود ادارہ تہران، مشہد، شیراز، کرمان اور دغارون سرحدی گزرگاہ پر اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جہاں افغان شہریوں کے تحفظ، دستاویزات اور امداد سے متعلق امور پر کام کیا جا رہا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button