سندھ کے معروف سماجی رہنما اور مزاحمتی قلم کار ظہیر حسین حیدری کی کتاب ’’لہو مان لاٹ ٻرندي آ‘‘ کی تقریب رونمائی

بدین(رپورٹ:مرتضیٰ میمن/جانوڈاٹ پی کے)سندھ کے معروف سماجی رہنما اور مزاحمتی قلم کار ظہیر حسین حیدری کی کتاب ’’لہو مان لاٹ ٻرندي آ‘‘ کی تقریب رونمائی نذیر حسین حیدری اکیڈمی کے زیر اہتمام خواجہ جماعت ہال بدین میں منعقد ہوئی، جس میں ادیبوں، دانشوروں، صحافیوں، سیاسی و سماجی رہنماؤں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر اخلاق احمد اخلاق نے کہا کہ ظہیر حسین حیدری قلمی جہاد کر رہے ہیں۔ ربِ کائنات نے قلم اور لکھنے کی قسم کھائی ہے اور قلم ہمیشہ حق و سچ کی روشنی کا علمبردار رہا ہے۔ انہوں نے ائمہ کرام کی شہادت اور حضرت علیؓ کی یتیموں کے لیے دی جانے والی قربانیوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ ظہیر حسین حیدری کی کتابوں میں مزاحمت نمایاں نظر آتی ہے اور وہ زندگی بھر حسینیت کے پیروکار رہے ہیں۔
مصنف ظہیر حسین حیدری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں حضرت علیؓ اور امام حسینؓ انقلابی کردار ہیں، جنہوں نے ظلم کے خلاف جدوجہد کی اور حق کا علم بلند کیا۔ انہوں نے کہا کہ نیلسن منڈیلا نے بھی حسینیت کی قربانیوں سے استقامت اور مضبوطی کا سبق سیکھا عوامی جمہوری پارٹی کے رہنما خادم تالپر نے کہا کہ ظہیر حسین حیدری کی کتاب میں انسانیت کا پیغام موجود ہے۔ ظہیر حسین حیدری اور ان کے والد نذیر حسین ہمیشہ حق و سچ کے لیے جدوجہد کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ظہیر حسین حیدری کو نوجوان نسل کے حوالے سے موجودہ حالات کے تناظر میں سائنسی انداز میں مزید لکھنا چاہیے ڈاکٹر شفقت حسین جعفری نے کہا کہ ظہیر حسین حیدری نے بہترین کتاب لکھ کر حق و سچ پر چلنے کی روایت کو برقرار رکھا ہے، جبکہ مختیار حسین خواجہ نے کہا کہ کتاب میں ’’علی کے عاشق اور حسین کے حبدار‘‘ کے موضوع کو خوبصورتی سے اجاگر کیا گیا ہے۔ حق کی راہ پر چلنے والے عاشق اور حبدار قربانی سے دریغ نہیں کرتے اور حق و سچ کی خاطر اپنی جان تک قربان کرنے والے کردار کتاب میں نمایاں ہیں
قائم الدین ڈاہری نے کہا کہ ظہیر حسین حیدری نے قلم کو ہتھیار بنا کر مظلوموں اور محنت کشوں کی حمایت کی اور ظالم کرداروں کو ان کے چہروں سے نقاب اتار کر بے نقاب کیا ہے مولانا عابد حسین عابدی نے کہا کہ انسانی تاریخ میں ’’نہیں‘‘ کا لفظ بھی طاقتور تصور کیا جاتا ہے اور نظریۂ انکار دراصل طاقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصنف نے کتاب میں پیاس اور اس کے فکری اثرات کو بیان کر کے کتاب میں خوبصورتی پیدا کی ہے حسنین خواجہ نے کتاب پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کتاب میں انسان کو حق کا علمبردار بھی دکھایا گیا ہے اور باطل کا ساتھ دینے والا بھی، جس سے انسانی کرداروں اور معاشرتی جدوجہد کی مختلف جہتیں سامنے آتی ہیں سینئر صحافی تنویر احمد ارائیں نے کہا کہ کتاب کے مصنف ظہیر حسین حیدری ایک کھلی کتاب کی مانند ہیں، جن کی ہر تصنیف میں ظلم کے خلاف اور مظلوموں کی حمایت میں مزاحمتی ادب نظر آتا ہے ان کا کہنا تھا کہ مصنف کی وابستگی نذیر حسین کے خاندان سے رہی ہے، جس کے باعث ان کی تحریروں میں سچائی نمایاں نظر آتی ہے ناصر بلوچ نے کہا کہ انسانی تاریخ میں حق و سچ اور ناانصافی و ظلم کے درمیان جنگ ہمیشہ جاری رہی ہے۔ ظہیر حسین حیدری نے اپنے قلم کے ذریعے حق و سچ کا علم بلند رکھا اور اپنی تحریروں سے وقت کے ظالموں کو للکارا ہے ظفر حسین حیدری نے کہا کہ ظہیر حسین حیدری نے اپنی کتاب کے ذریعے دھرتی کے حسن میں مزید اضافہ کیا ہے۔ کتاب میں امام حسینؓ کی شہادت اور حق و سچ کی روشنی میں حقیقت کو اجاگر کیا گیا ہے تقریب کے دوران اشرف حسرت جعفری نے شاعری بھی پیش کی۔ اللہ بچایو بھرگڑی نے کہا کہ ظہیر حسین حیدری کی کتاب پر بات کی جائے تو دراصل حسینیت پر بات ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نذیر حسین وقت کے فرعونوں کے سامنے کبھی نہیں جھکے۔ سینئر صحافی مصطفیٰ جمالی نے کہا کہ ظہیر حسین حیدری کی کتاب میں حق و سچ کی وضاحت کی گئی ہے اور ائمہ کرام کی شہادت سے لے کر آج تک ظالم اور مظلوم کے درمیان جنگ جاری ہے مولانا حیدر علی نے کہا کہ ظہیر حسین حیدری نے کتاب کا موضوع ’’عشقِ علی اور حبِ امام‘‘ رکھا ہے اور گہرائی سے لکھی گئی اس کتاب میں واقعہ کربلا کو زندگی کو نئی روح بخشنے والے واقعے کے طور پر پیش کیا گیا ہے تقریب میں مقررین نے کتاب ’’لہو مان لاٹ ٻرندي آ‘‘ کو مزاحمتی ادب، حق و سچ اور انسانیت کے پیغام کا اہم ادبی اظہار قرار دیا



