میرپورخاص کیلئے ہفتہ وار ٹرین سروس کا اعلان، شہریوں کا شدید احتجاج

میرپورخاص(شاھدمیمن) میرپورخاص کی عوام کے ساتھ ریلوے کا مسلسل امتیازی سلوک، بند ٹرینوں کے بجائے ہفتہ وار سروس کا اعلان، شہریوں نے فیصلے کو "سنگین مذاق” قرار دے دیا تفصیلات کے مطابق پاکستان ریلوے کی جانب سے میرپورخاص ڈویژن کے عوام کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرنے کے بجائے مسلسل محروم رکھا جارہا ہے پہلے میرپورخاص اور حیدرآباد کے درمیان چلنے والی مسافر ٹرین کو13 مارچ کو بند کیا گیا اس کے بعد  میرپورخاص سے کراچی کے درمیان چلنے والی مہران ایکسپریس کو بھی 23 اپریل کو معطل کر دیا گیا دونوں ٹرینیں "اگلے احکامات تک” بند کرنے کا اعلان کیا گیا مگر کئی ماہ گزرنے کے باوجود انہیں بحال نہیں کیا گیا اب پاکستان ریلوے کراچی ڈویژن کی جانب سے 23 جولائی کو جاری ہونے والے نئے نوٹیفکیشن نے میرپورخاص کے عوام کی مایوسی میں مزید اضافہ کر دیا ہے نوٹیفکیشن کے مطابق کراچی سے میرپورخاص کے درمیان چلنے والی شاہ لطیف ایکسپریس ہفتہ اور اتوار کو معطل رہے گی جبکہ اس کے متبادل کے طور پر ماروی ایکسپریس کو صرف ہفتے کے روز میرپورخاص سے کھوکھراپار اور اتوار کو واپسی کے لیے ہفتہ وار بنیاد پر چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے میرپورخاص کے شہریوں، تاجروں، طلبہ اور روزانہ سفر کرنے والے مسافروں کا کہنا ہے کہ ہفتے میں صرف ایک دن ٹرین چلانا عوام کو سہولت دینا نہیں بلکہ ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے ان کا کہنا ہے کہ جہاں روزانہ ہزاروں افراد کو آمدورفت کی ضرورت ہو وہاں ہفتہ وار سروس کا اعلان کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ عوام کے ساتھ ایک سنگین مذاق ہے ریلوے ذرائع کے مطابق جب خطے میں کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تو انہی وجوہات کو بنیاد بنا کر میرپورخاص سے چلنے والی متعدد ٹرینیں معطل کر دی گئیں لیکن حالات معمول پر آنے کے باوجود ان ٹرینوں کی بحالی پر کوئی سنجیدہ پیش رفت نہیں کی گئی شہریوں جن میں اقبال احمد،خلیل خان،عبدالجبار اور دیگر کا کہنا ہے کہ میرپورخاص سے کراچی اور حیدرآباد جانے والی ٹرینیں ہمیشہ مسافروں سے بھری رہتی تھیں اور ریلوے کو آمدنی بھی فراہم کرتی تھیں اس کے باوجود ٹرینیں بند کر کے لاکھوں شہریوں کو نجی ٹرانسپورٹ مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا جہاں نہ صرف کرایے زیادہ وصول کیے جا رہے ہیں بلکہ مسافروں کو غیر معیاری سفری سہولیات کا سامنا بھی ہے شہریوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ پاکستان ریلوے نے کرایوں میں بھی اضافہ کر دیا ہے اور میرپورخاص سے حیدرآباد کا کرایہ 275 روپے جبکہ کراچی تک کا کرایہ 810 روپے مقرر کر دیا گیا ہے تاجروں کے مطابق مہران ایکسپریس میرپورخاص اور کراچی کے درمیان تجارت کی ایک اہم کڑی تھی سینکڑوں تاجر روزانہ کراچی جا کر خریداری کرتے اور رات کو اسی ٹرین کے ذریعے واپس میرپورخاص پہنچ جاتے تھے اس سروس کی بندش سے کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں شہریوں نے مطالبہ کیا کہ اگر ماضی کی طرح ایک درجن ٹرینیں بحال کرنا فوری طور پر ممکن نہیں تو کم از کم چار مسافر ٹرینیں میرپورخاص اور حیدرآباد کے درمیان چلائی جائیں مہران ایکسپریس کو فوری طور پر بحال کیا جائے اور شاہ لطیف ایکسپریس کے شیڈول میں کی گئی حالیہ کمی کو واپس لیا جائے۔

مزید خبریں

Back to top button